اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 965 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 965

ومالى ٢٣ ۹۶۵ مت ۳۸ أَيْتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُوا الْأَلْبَابِ ) آیتوں میں بہت غور کریں اور عقلمند لوگ اس سے نصیحت پکڑیں (اور عمل کریں)۔وَوَهَبْنَا لِدَاوُدَ سُلَيْمَن نِعْمَ الْعَبْدُ ۳۱۔اور ہم نے داؤد کو سلیمان عطا فرمایا۔کیا اچھا بندہ تھا۔کچھ شک نہیں کہ وہ بڑا رجوع انه آوابت کرنے والا تھا حق کی طرف۔اِذْ عُرِضَ عَلَيْهِ بِالْعَشِي الصفنتُ ۳۲۔جب پیش کئے گئے سلیمان کے سامنے شام کے وقت اصیل تیز رو گھوڑے۔الْجِيَادَة فَقَالَ إِنّى أَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَيْرِ عَنْ ۳۳۔( گھوڑوں کو دیکھ کر شکر یہ کے طور پر ) ذِكْرِ رَبِّي حَتَّى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ سلیمان نے کہا میں نے ذکر الہی کے لئے (یعنی جہاد میں کام آنے کے واسطے ) ان سے محبت کی ہے یہاں تک کہ وہ آڑ میں ہو گئے۔رُدُّوهَا عَلَى فَطَفِقَ مَسْحًا بِالسُّوقِ ۳۴- حکم دیا کہ ان کو میری طرف لوٹا لا ؤ پھر وہ آیت نمبر ۳۱ - لِدَاوُدَ سُلیمن۔ہم نے داؤد کو سلیمان عطا فرمایا۔اس ترجمہ کے لکھتے وقت منشی ومولوی فاضل محمد بہاء الدین خان نے سوال کیا کہ قرآنی قصص اور بعض بعض مضامین کئی کئی بار قرآن مجید میں کیوں آتے ہیں جواب دیا گیا کہ جیسے قانونی دفعات یا حقوق کے اثبات کے دستاویز جب کبھی ضرورت پڑتی ہے بار بار پیش کرنا ہوتا ہے جو ایک فطری امر ہے اسی طرح انبیاء اور مامورین اور ناصحین اپنی جماعت کے حالات اور دلائل اثبات امور الہیہ کے لئے حقیقی ثبوتوں کا اعلیٰ مجموعہ جان کر جب کبھی ضرورت ہوتی ہے بار بار پیش فرماتے رہتے ہیں تا کہ اس جماعت سے نسبت اور تعلق رکھنے والوں کو اور مذکورہ قوانین کے پابندوں کو باحسن وجوہ تفہیم کراسکیں اور ملزم بناسکیں۔آیت نمبر ۳۲ - الصفنت الجِيَادُ۔اصیل، تیز رو گھوڑے۔مصر کے قبطی اور بابل کے بت پرست بادشاہوں کا حضرت سلیمان کے وقت چو طرف زور تھا اس لئے حضرت سلیمان نے عمدہ گھوڑے رکھے اور اس جگہ اس موقع کا ذکر ہو رہا ہے جب حضرت سلیمان گھوڑوں کا داخلہ دیکھ رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ میں نے دین کے لئے انہیں پسند کیا ہے۔آپ یہ وعظ فرما رہے ہیں اور گھوڑے آگے نکل گئے ہیں تو آپ نے ان کے لوٹانے کا حکم دیا ہے اور ان کی گردنوں اور پیروں پر محبت سے ہاتھ پھیر رہے ہیں اور یہ قصہ اصل الفاظ قرآنی سے مترشح ہے۔بعض تفسیروں میں اور کچھ لغو قصہ شائع کر دیا ہے جو شانِ انبیاء سے نہایت بعید ہے۔آیت نمبر ۳۴ - مَسْحًا بِالسُّوقِ وَالْأَعْنَاقِ۔ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر ہاتھ پھیر نے لگا۔اس سے مراد گردنوں اور پنڈلیوں کا کا ثنا نہیں جیسا کہ بعض کو وہم ہوا ہے۔بلکہ اس سے مراد پیار سے گھوڑوں پر ہاتھ پھیرنا ہے۔