ملفوظات (جلد 4) — Page 264
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۶۴ جلد چهارم اعتبار تھا مگر اب تو جب سے یہ سلسلہ طاعون کا شروع ہوا ہے کوئی اعتبار مطلق نہیں رہا۔ آپ نفس پر جبر کر کے ٹھہریئے اور جو شبہ و خیال پیدا ہو وہ سناتے رہیے ۔ ان پڑھ اور اُمی لوگ جو آتے ہیں ان کی باتیں اور شبہات کا سننا بھی ہمارا فرض ہے۔ اس لیے آپ بھی اپنے شبہات ضرور سنائیے ۔ یہ ہم نہیں کہتے کہ ہدایت ہو یا نہ ہو ہدایت تو امر ربی ہے۔ کسی کے اختیار میں نہیں ہے۔ یہ بات سمجھنے والی ہے کہ ہر ایک مسلمان کیوں مسلمان کہلاتا ہے؟ مسلمان مسلمان کون ہے؟ وہی ہے جو کہا ہے کہ اسلام برحق ہے۔ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم بی رت ہیں قرآن کتاب آسمانی ہے۔ اس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ میں اقرار کرتا ہوں کہ میں ان سے باہر نہ جاؤں گا ۔ نہ عقیدہ میں نہ عبادت میں نہ عملدرآمد میں ۔ میری ہر ایک بات اور عمل اس کے اندر اندر ہی ہوگا ۔ گدی نشین اور اب اس کے مقابل پر آپ انصاف سے دیکھیں کہ آج کل گری تین اور بدعات والے اس ہدایت کے موافق کیا کچھ کرتے ہیں۔ اگر وہ خدا کی ت کتاب پر عمل نہیں کرتے تو قیامت کو اس کا جواب کیا ہوگا کہ تم نے میری کتاب پر عمل نہ کیا۔ اس وقت طواف قبر ، کنجریوں کے جلسے اور مختلف طریقہ ذکر کے جن میں سے ایک اڑہ کا ذکر بھی ہے ہوتے ہیں۔ لیکن ہمارا سوال ہے کہ کیا خدا بھول گیا تھا کہ اس نے یہ تمام باتیں کتاب میں نہ لکھ دیں اور نہ رسول کو بتلائیں ۔ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت جانتا ہے اسے ماننا پڑے گا کہ اللہ اور اس کے رسول کے فرمودہ کے باہر نہ جانا چاہیے۔ کتاب اللہ کے برخلاف جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب بدعت ہے اور سب بدعت فی النار ہے۔ اسلام اس بات کا نام ہے کہ بجز اس قانون کے جو مقرر ہے اِدھر اُدھر بالکل نہ جاوے۔ کسی کا کیا حق ہے کہ بار بار ایک شریعت بناوے ۔ بعض پیر زادے چوڑیاں پہنتے ہیں ۔ مہندی لگاتے ہیں ۔ لال کپڑے ہمیشہ رکھتے ہیں ۔ سدا سہاگن ان کا نام ہوتا ہے۔ اب ان سے کوئی پوچھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو مرد تھے۔ اس کو مرد