ملفوظات (جلد 4) — Page 265
ملفوظات حضرت مسیح موعود سے عورت بننے کی کیا ضرورت پڑی ؟ ۲۶۵ جلد چهارم ہمارا رسول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اور کتاب قرآن کے سوا اور طریق سنت کے سوا نہیں ۔ کس شے نے ان کو جرات دی ہے کہ اپنی طرف سے وہ ایسی باتیں گھڑ لیں ۔ بجائے قرآن کے کافیاں پڑھتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا دل قرآن سے کھٹا ہوا ہوا ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو میری کتاب پر چلنے والا ہو وہ ظلمت سے نور کی طرف آوے گا اور کتاب پر اگر نہیں چلتا تو شیطان اس کے ساتھ ہوگا ۔ مگر جو خدا کے بندے ہوتے ہیں ان میں خوشبو اور برکت ہوتی بندگان خدا کی علامت ہے فریب اور مکر ے ان کو کوئی غرض نہیں ہوتی ۔ جیسے آفتاب اسے ۔ چمکتا ہوا نظر آتا ہے ایسے ہی دور سے ان کی چمک دکھائی دیتی ہے اور دنیا میں اصل چمک انہی کی ہے۔ یہ آفتاب اور قمر وغیرہ تو صرف نمونہ ہیں۔ ان کی چمک دائمی نہیں ہے کیونکہ یہ غروب ہو جاتے ہیں لیکن وہ غروب نہیں ہوتے ۔ جس کو خدا اور رسول کی محبت کا شوق ہے اور ان کے خلاف کو پسند نہیں کرتا اور عفونت اور بد بو کو محسوس کرنے کا اس میں مادہ ہو وہ فوراً آ جائے گا کہ یہ طریق اسلام سے بہت بعید ہے۔ مثلِ یہود کے خدا نے ان کو چھوڑ دیا ہے۔ بلعم کی طرح اب مکر و فریب کے سوا ان کے پاس کچھ نہیں رہا۔ صفائی والا انسان جلد دیکھ لیتا ہے کہ یہ جسم اس حقیقی روح سے خالی ہے ۔ انسان توجہ کرے تو اسے پتا لگتا ہے کہ جو لوگ صم بكم دام وو سجادہ نشینوں کے پیرو سوچیں ہوکر سجادہ نشینوں کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہیں اور عرسوں وغیرہ میں شریک ہو جاتے ہیں ان کو یہ خیال نہیں آتا کہ وہ کون سی روشنی ہے جو کہ خانہ کعبہ سے شروع ہیں ان یہ کعبہ سے ہوئی تھی اور تمام دنیا میں پھیلی تھی اور انہوں نے اس میں سے کس قدر حصہ لیا ہے۔ ان کو ہرگز وہ نور نہیں ملتا جو آنحضرت مکہ سے لائے اور اس سے گل دنیا کو فتح کیا۔ آج اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوں تو ان لوگوں کو جو امت کا دعوی کرتے ہیں کبھی شناخت بھی نہ کر سکیں ۔ کون سا طریقہ آپ کا ان لوگوں نے رکھا ہے۔