ملفوظات (جلد 3) — Page 481
ملفوظات حضرت مسیح موعود لد ١٧ جلد سوم مشاہدہ کرتا ہے کہ میں وہ نہیں رہا ہوں بلکہ اور ہو گیا ہوں پھر دل میں ایک کشش پاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی یاد میں لذت حاصل کرتا ہے اور ایسی محبت اسے نماز سے ہو جاتی ہے جیسے کسی اپنے عزیز کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے یہ ہے اصل جڑھ ایمان کی۔ مگر یہ انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہے ہم اس بات کا نمونہ نہیں بتا سکتے اور نہ الفاظ میں اس کو سمجھا سکتے ہیں کیونکہ الفاظ حقیقت کے قائم مقام نہیں ہوتے اس لئے جب یہ حالت آتی ہے تو پھر انسان اپنی گذشتہ زندگی پر حسرت اور افسوس کرتا ہے کہ وہ یونہی ضائع ہوگئی کیوں پہلے ایسی حالت مجھ پر نہ آئی ۔ نماز کیا چیز ہے۔ نماز اصل میں رب العزۃ سے دعا ہے جس کے بغیر انسان نماز کی حقیقت زندہ نہیں ہوسکتا اور نہ عافیت اور خوشی کا سامان مل سکتا ہے جب خدا تعالیٰ اس پر ا اپنا فضل کرے گا اس وقت اسے حقیقی سرور اور راحت ملے گی اس وقت سے اس کو نمازوں میں لذت اور ذوق آنے لگے گا جس طرح لذیذ غذاؤں کے کھانے سے مزا آتا ہے اسی طرح پھر گریہ و بکا کی لذت آئے گی اور یہ حالت جو نماز کی ہے پیدا ہو جائے گی اس سے پہلے جیسے کڑوی دوا کو کھاتا ہے تا کہ صحت حاصل ہو اسی طرح اس بے ذوقی نماز کو پڑھنا اور دعائیں مانگنا ضروری ہیں اس بے ذوقی کی حالت میں یہ فرض کر کے کہ اس سے لذت اور ذوق پیدا ہو یہ دعا کرے۔ کہ اے نماز میں لذت و ذوق حاصل کرنے کی دعا کا اسے لال ہو جو دیکھتاہے کہ میں کیسا اندھا اور نابینا ہوں اور میں اس وقت بالکل مردہ حالت میں ہوں میں جانتا ہوں کہ تھوڑی دیر کے بعد مجھے آواز آئے گی تو میں تیری طرف آ جاؤں گا اس وقت مجھے کوئی روک نہ سکے گا لیکن میرا دل اندھا اور ناشناسا ہے تو ایسا شعلہ نوراس پر نازل کر کہ تیرا انس اور شوق اس میں پیدا ہو جائے تو ایسا فضل کر کہ میں نابینا نہ اٹھوں اور اندھوں میں نہ جاملوں ۔ جب اس قسم کی دعا مانگے گا اور اس پر دوام کرے گا تو وہ دیکھے گا کہ ایک وقت اس پر آئے گا کہ اسی بے ذوقی کی نماز میں ایک چیز آسمان سے اس پر گرے گی جو رقت پیدا کر دے گی ۔