ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 482 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 482

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۸۲ خدا تعالیٰ کے آسمان میں ہونے کا مفہوم پر ہے؟ عرب صاحب نے عرض کیا کہ خدا آسمان جلد سوم فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا مالک ہے مگر لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنی (طه : ۹) اس نے اپنے آپ کو علو ہی سے منسوب کیا ہے پستی کی طرف اس کو منسوب نہیں کر سکتے سُبُحْنَهُ وَتَعَلى (الانعام : ١٠١ ) عُلُو کو ہم مشاہدہ کرتے ہیں اور کشفی صورتوں میں آسمان سے نور نازل ہوتا ہوا دیکھا ہے گو ہم اس کی کنہ اور کیفیت بیان نہ کر سکیں مگر یہ سچی بات ہے کہ اس کو غلو ہی سے تعلق ہے بعض امور آنکھوں سے نظر آتے ہیں اور بعض نہیں۔ ہر صورت میں فلسفہ کام نہیں آتا پس اصل بات یہی ہے کہ ایک وقت ایسی حالت انسان پر آتی ہے کہ وہ محسوس کرتا ہے کہ آسمان سے اس کے دل پر کچھ گرا ہے جو اسے رقیق کر دیتا ہے اس وقت نیکی کا بیج اس میں بویا جاوے گا۔ لے ۔ ۲۹ دسمبر ۱۹۰۲ء بروز دوشنبه ( بوقت مغرب ) حضور علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے تو آ کر فرمایا کہ روزہ ایک یا دو اب رہ گئے ہیں بڑی آسانی سے گذر گئے ۔ ایک صاحب نے ذکر کیا کہ ان کا ایک افسر سخت مزاج تھا بوقت ضرورت جمع صلوتین روانگی نماز میں اکثر میں بجیں ہوا کرتا تھا حضرت اقدس نے فرمایا کہ خدا نے ضرورتوں کے وقت جمع صلو تین رکھا ہے ظہر اور عصر کی نمازیں ایسی حالتوں میں جمع کر کے پڑھ لیں۔ بعض انگریز حکام کی قدر شناسی پر فرمایا کہ پنجابیوں کے ساتھ انگریزوں کا حسن ظن اب زمانہ بدل گیا ہے اور پنجابیوں کے الحکم جلدے نمبر ا مورخہ ۱۰ جنوری ۱۹۰۳ ء صفحہ ۱۱