مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 489 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 489

مکتوبات احمد ۴۸۹ جلد پنجم (۲) ۔ کے وقت عینک کی طرح ہوتے ہیں اس سے زیادہ ( وقعت ) نہیں ( رکھتے )۔ اور ایک دوسرا گروہ ہے، وہ ان تینوں کو فرشتہ جانتے ہیں (۳)۔ اور کہتے ہیں کہ برہما جبرائیل سے تعبیر کیا جاتا ہے، جو پیدا کرنے والا ہے اور بشن اسرافیل سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ (۴)۔ جو نگہبان ہے اور ڈ ڈر یعنی مہادیو عزرائیل سے تعبیر کیا جاتا ہے جو کہ فنا کر نیوالا ہے۔ (۵)۔ اور عالمین کا خدا کوئی اور ہے جو تعد دو جننے و متولد ہونے سے برتر ہے اور یہ قوم خدا کو (۶) ۔ معدوم الصفات سمجھتی ہے واللہ اعلم اور خود کو بیدانتی کہتے ہیں گو کہ یہ فرقہ بادی الرائے میں (۷)۔ ہندؤوں کے دوسرے فرقوں کی نسبت زیادہ مائلِ صلاحیت ہے البتہ اگر کوئی صدق دل اور آزادی فکر سے غور کرے (۸)۔ تو اسے معلوم ہوگا کہ اس (اعتقاد) میں کتنے ہی شبہات جھول رہے ہیں اور درحقیقت بیدانتیوں کا مذہب (۹)۔ یہی ہے کہ دنیا کا کوئی صانع ہے لیکن وہ کوئی صفت نہیں رکھتا اور جو تاثیرات دنیا میں رونما ہوتی ہیں (۱۰) ۔ وہ وسیلوں کے ذریعے سے ہوتی ہیں نہ اس کی ذات کے ذریعے سے۔ اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ فی الحقیقت تمام ہندؤوں کا مذہب یہی ہے۔ بعد میں جاہلوں میں سے (۱۱) ۔ ایک گروہ نے ان تینوں فرشتوں کو خدا گمان کر کے بت پرستی میں اپنے آپ کو مبتلا کر لیا کیونکہ (۱۲)۔ ان مقامات میں مبالغہ آمیزی کرنا عوام الناس کا لازمہ ہے۔ (۱۳) ۔ اگر چہ عقیدہ ثانی کا نتیجہ بت پرستی ہے مگر خدائے کامل الصفات خالق مطلق کو (۱۴) ۔ معدوم الصفات سمجھنا بھی بت پرستی سے کم نہیں ۔ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ وَاحِدًا وَاحِدًا ( ان میں سے ہر ایک پر اللہ کی لعنت ہو ) (۱۵) ۔ جہاں تک ہم سے یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ بت پرستی کی تعریف کیا ہے اور ان لوگوں ں تک ہم سے یہ سوال پوچھا جاتا ہے کو کونسی چیز بت پرست بناتی ہے، لازم ہے کہ ان امور کو ہم بیان کریں ۔ جاننا چاہیے کہ عبادت ، عقاید کا نتیجہ ہے اور اہل حق کے عقاید یہ ہیں کہ خدا ایک ہے اور اللہ جل شانہ کی