مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 488 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 488

مکتوبات احمد ۴۸۸ جلد ترجمه هَذَا كِتَابٌ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى قَائِلِهِ وَ قَابِلِهِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ (۱) ۔ تعریف صرف تجھے ہی زیبا و درست ہے۔ جو کوئی کسی کے بھی دروازے پر جائے تو وہ تیرے ہی دروازہ پر ہوگا ۔ (۲) ۔ اما بعد ! میرا مخاطب وہ وہ شخص ہے جو طالب حقیقت اور صدق و عدل پر قائم رہتا ہے۔ (۳) ۔ مغرور اور متعصب لوگوں کی محفلوں میں نہیں بیٹھتا اور استہزا اور بیہودہ باتوں پر کان نہیں دھرتا ۔ (۴) ۔ اور مکاروں کی باتوں میں نہیں آتا اور خدا تعالیٰ کے ارادہ کی پیروی کا خواہش مند ہے۔ اسی کی طرف اللہ تعالیٰ تجھے ہدایت دے۔ (۵) ۔ قوم ہنود کی کتب میں تلاش حق اور بیان حقیقت گوئی کلیتا نایاب ( اور ) وہم پرستی جا بجا ہے۔ (۶) ۔ اور بیہودہ خیالی افسانے لکھے ہیں ۔ ایک گروہ اس اعتقاد پر ہے کہ ہم خدائے بے مثل کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے ۔ (۷) ۔ ہم اس خیال سے برہما و بشن و مہاد یو کو خدا سمجھتے ہیں کہ خدائے بے مثل ) ۔ ان تین پیکر سے مجسم ہوا اور اسکا دامنِ وحدت غبار آلودہ نہ ہوا۔ اور جو ، بیگانے (۸) (۹) ۔ بت پرستی پر طعن کرتے ہیں۔ ایسا بالکل نہیں ہے بلکہ ہم ان تینوں ( کے ملاپ سے مل کر بننے والے ۔ مترجم ) ایک پیکر کو (۱۰) ۔ اپنی آنکھوں کے سامنے رکھتے ہیں تاکہ اویسہ کو پراگندگی سے روکیں اور دل جو خواہش دید رکھتا ہے اس آرزو کی تکمیل کریں ہے ہے 3 (۱)۔ اور بتدریج مثال پرستی کو چھوڑتے ہوئے دریائے حقیقت میں غوطہ زن ہوتے ہیں اور ہمارے 4 ت عبادت