مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 490 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 490

مکتوبات احمد ۴۹۰ جلد پنجم صفات ہمیشہ سے قائم و دائم ہیں یعنی نہ اسکی صفات میں تبدل ہے نہ ہی تغیر اور نہ ابتدا ہے اور نہ انتہا ہے ۔ سچا اور حقیقی خدا ابدی اور ازلی ہے کوئی مخلوق نہیں کہ متولد ہو اور ایسی صفات سے برتر ہے جن کو تسلیم کرنے سے ہمارا دل نفرت کرے۔ اسکی صفات تو ہمارے دل کا قرار ہیں اور ہمارا دل اس کی صفات سے مان مانوس ہے ۔و ہے ۔ وہ ازل سے واحد ہے کونسا دل ہے جو اسکی وحدت کا منکر ہے۔ ابد سے وہ ایک ہے اور کونسا دل ہے جو اسکی تثلیث کا اقرار کرتا ہے ۔ اے بے خبر انسان راہ راستی سے باہر نہ جا۔ اپنے دل کی خواہش کو دیکھ کہ اُس پر کیا تحریر کیا ہے۔ جب تو اپنے دل کے آئینہ پر غور کرے گا تو بتدریج پاکیزگی کو حاصل کرلے گا۔ جس وقت وہ اپنے آپ کو ظاہر کرے گا تو کون ہے جو اس کا انکار کر سکتا ہے اور جب اس نے انسان کی فطرت حقیقی پر جلوہ کیا تھا تو اس نے اسکی الوہیت کا اقرار کیا اور اسکے کلام کو سنا اور وہ کلام دلوں پر تو اسنے اقرار اور کوسنا میں دس بیٹھا اور دلوں میں گھر کر گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی انسان اپنے دل کے ارادہ حقیقی کو پالے تو وہ جان لے گا کہ جب تک وہ اس واحد لطیف کا اقرار نہیں کرتا (اس وقت تک ) گناہ گار ہے۔ لیکن چونکہ انہوں نے اپنی عقل کا استعمال چھوڑ دیا ہے اور وہم اور خیال نے اسکی پیروی میں جگہ لے لی اور اکثر امور کے سمجھنے سے عاجز و قاصر ہو کر ان کی عقل محض بصارت کی حد تک ہو کر رہ گئی تھی تاہم وہم و خیال کی تاریکی میں مبتلا ان لوگوں کے لئے خدائے کریم نے اپنی بے نہایت رحمت سے اپنے آفتاب کلام کو بھیجا۔ جاننا چاہیے کہ عقل کو خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور اسکے کلام حق کو پہچاننے کے لیے کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بے خبر جزیرہ نشین جن کے کانوں تک رسالت نبوی کی ندا نہیں پہنچی اس ایمان کے مکلف ہیں کہ خدا تعالیٰ کو واحد جانیں اور اگر بت پرستی کریں گے تو عذاب الہی میں گرفتار ہوں گے اگر چہ رسالتِ نبوی کی ندا ان کے کانوں تک نہ بھی پہنچی ہو۔ اب اس نعمت عظمی کا شکر ہم پر لازم ہے کہ ہم یاد حق سے غافل تھے اور ہمارے حال پر یہ مثال صادق آتی تھی کہ ایک دوست نے دوسرے دوست کو کہا کہ فلاں شب کو فلاں محفل میں حاضر ہونا اور یاد دہانی کے لیے میں تیرے دامن کو یہ گرہ دے رہا ہوں۔ پس وہ دامن کی گرہ ہر وقت اس کو دوست کی یاد دلاتی ۔ گو وہ اس محفل میں پہنچ تو گیا لیکن اندھیرے کی وجہ سے اپنے دوست کی ملاقات سے رُکا رہا۔ آخر کار ا سکے دوست نے اس پر رحم کرتے ہوئے شمع بھیجی تا شمع کی راہنمائی سے آسانی کے ساتھ دوست کے