مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 560
مکتوبات احمد ۵۶۰ جلد اول شیخ عبد القادر قدس سرہ نے علوم و معارف الہیہ کے حاصل ہونے کا ذریعہ فنا عن الخلق وغیرہ اقسام فنا کو ٹھہرایا ہے ۔ پس جب کہ فنا کا حاصل ہونا ان علوم کے حاصل ہونے پر موقوف ہے تو اس سے دور لازم آتا ہے ۔ سواس سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر چہ یہ علوم لد نیه و کشوف صادقه و تائیدات خاصه الهیه و تو جہات جلیلہ صد یہ غیر فانی کو ذاتی طور پر حاصل نہیں ہو سکتے لیکن بتوسط صحبت شیخ فانی حاصل ہو سکتے ہیں ۔ یعنی اگر چہ براہ راست نہیں لیکن سالک اپنے شیخ کامل میں ان تمام تائیدات سماویہ کو معائنہ و مشاہدہ کرتا ہے۔ پس یہی مشاہدہ اس کے یقین کے کمالیت کا موجب ہو جاتا ہے ۔ اگر جلدی نہیں تو ایک زمانہ دراز کی صحبت سے ضرور شکوک و شبہات کی تاریکی دل پر سے اُٹھ جاتی ہے ۔ اسی جہت سے فانیوں کی صحبت کے لئے قرآن شریف میں سخت تاکید ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے كُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ ، أَى كُونُوا مَعَ الفانين وَالصَّادِقُونَ هُمُ الْفَانُونَ لَا غَيْرُهُمُ اور جو شخص نہ فانی ہے اور نہ فانیوں سے اُس کو کچھ تعلق اور محبت ہے ۔ وہ محض ہلاکت میں ہے اور اس کے سوء خاتمہ کا سخت اندیشہ ہے اور اس کے ایمان کا کچھ ٹھکانا نہیں ۔ اِلَّا أَنْ يَتَدَارَكَهُ اللَّهُ بِرَحْمَتِهِ - دوسری شرط مورد معارف الہیہ ہونے کیلئے یہ ہے کہ ہوائے نفس سے انقطاع ہو جائے ۔ یعنی سالک پر لازم ہے کہ اپنے تمام حرکت و سکون و قول و فعل اور امر اور نواہی میں اللہ تعالیٰ کی متابعت اختیار کرے اور کسی حالت میں قَالَ اللهُ وَقَالَ الرَّسُولُ سے باہر نہ جائے اور جو کچھ دوسرے لوگ اپنے نفس کی متابعت سے کرتے ہیں ۔ وہ اپنے رسول کی متابعت سے بجالا وے اور اپنے اعمال اور اقوال میں کوئی ایسی جگہ خالی نہ چھوڑے جس میں نفس کو کچھ دخل دینے کی گنجائش ہو۔ پس جب کہ کامل طور پر انتباع سنت میسر آ جائے گا اور ایک ذرہ ہوائے نفس کی پیروی نہیں رہے گی بلکہ ظاہر و باطن متابعت رسول کریم سے منور ہو جائے گا۔ تو یہ وہ حالت ہے جس کا نام فنا بامر اللہ ہے۔ مگر ہائے افسوس کہ اس پر ظلمت زمانہ میں بجائے اس کے (کہ ) کبریت احمر کا قدر کریں ، اکثروں کو اس طریق سے بغض ہے اور اتباع سنت سے ایک چڑ ہے۔ حالانکہ دوسری قسم فنا کی بجز اس کے ہرگز میسر نہیں ہو سکتی ۔ اللَّهُمَّ أَصْلِحُ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ - اللَّهُمَّ ارْحَمُ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ - اللَّهُمَّ انْزِلُ عَلَيْنَا بَرَكَاتِ مُحَمَّدٍ وَ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلِّمُ - ا التوبة : ١١٩