مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 559
مکتوبات احمد ۵۵۹ مکتوب نمبر ۲۶ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ جلد اول مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ بعد ہذا محبت نامہ آں مخدوم پہنچا۔ موجب شکر و سپاس ہوا۔ خداوند کریم مقدرات مکروہہ سے آپ کو امن میں رکھے اور آپ کی سعیوں اور کوششوں میں کہ جو آپ خالصاً اللہ کر رہے ہیں بہت سی برکتیں بخشے اور بہت سے اجر اُس پر مترتب کرے ۔ آمین ۔ صفحہ ۲۴ فتوح الغیب کی نسبت جو آل مخدوم نے دریافت فرمایا ہے یہ مقام ئین المعنی ہے ، کوئی عمیق حقیقت نہیں جو کچھ شارح نے لکھا ہے وہ صحیح اور درست ہے ۔ حضرت مخدومنا شیخ عبدالقادر رضی اللہ عنہ اس مقام میں یہ تعلیم فرماتے ہیں کہ سالک میں حقیقت فنا کی تب محقق ہوتی ہے اور تبھی وہ اس لائق ہوتا ہے کہ مورد معارف الہیہ ہو جب تین طور کا انقطاع حاصل ہو جائے ۔ اول انقطاع خلق اللہ سے اور وہ اس طرح پر حاصل ہوتا ہے کہ حکم الہی کو جو قضا و قدر ہے۔ تمام مخلوقات پر نافذ سمجھے اور ہر ایک بندہ کو پنجہ تقدیر کے نیچے مقہور اور مغلوب یقین کرے لیکن اس جگہ یہ عاجز صرف اس قدر کہنا چاہتا ہے کہ ایسا یقین کہ فی الحقیقت تمام مخلوقات کو کالعدم خیال کرے اور ہر یک حکم خدا کے ہاتھ میں دیکھے اور ہر یک نفع اور ضر راسی کی طرف سے سمجھے صرف اپنے ہی تکلف اور تصنع سے حاصل نہیں ہو سکتا اور اگر تکلف سے کسی قدر خیال قائم بھی ہو تو وہ بے بقا ہے۔ اور ادنی ابتلا سے لغزش پیش آ جاتی ہے بلکہ یہ مقام عالی شان اس بصیرت کا ملہ سے حاصل ہوتا ہے کہ جو خاص خدا تعالیٰ کی طرف سے حاصل ہوتی ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ جب عنایات الہیہ کسی کی تکمیل کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو اس کے لمبے قصہ کو آپ ہی کوتاہ کر دیتی ہیں اور وہ بوجھ جو اس سے اُٹھائے نہیں جاتے دست غیبی ان کو آپ اُٹھا لیتا ہے ۔ پس اسی طرح سے جب بذریعہ علوم لد نیه و کشوف صادقہ و الہامات صحیحه و تائیدات صریحہ انسان پر یہ حقیقت کھل جاتی ہے کہ تمام نفع و ضرر خدا کے اختیار میں ہے اور مخلوق کچھ چیز ہی نہیں تو ایک نہایت کامل یقین سے وہ سمجھ جاتا ہے کہ جو کچھ نفع یا نقصان اور عزت یا ذلت ہے سب خدا ہی کے ہاتھ میں ہے اور مخلوق کو مردہ کی طرح دیکھتا ہے لیکن اس جگہ اعتراض یہ ہے کہ حضرت مخدومنا