خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 339 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 339

خطبات مسرور جلد 19 339 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جون 2021ء گیا تھا۔اس کا نام عقاب تھا اور آپ کا ایک جھنڈ اسفید رنگ کا تھا جو آپ نے حضرت علی کو عطا فرمایا۔ایک جھنڈے کا پہلے ذکر ہوا ہے جو سیاہ رنگ کا تھا جو ام المومنین کی چادر سے بنایا گیا تھا۔پھر دوسرے جھنڈے کا ذکر ہے جو سفید رنگ کا تھا یہ حضرت علی ہو آپ نے عطا فرمایا۔ایک پرچم آپ نے حضرت خباب بن منذر کو اور ایک حضرت سعد بن عبادہ کو عطا فرمایا۔نیز جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں تشریف فرما ہوئے تو آپ کو دردِ شقیقہ ہو گیا اور آپ باہر تشریف نہ لا سکے۔اس موقع پر پہلے آپ نے حضرت ابو بکر" کو اپنا پر چم عطا فرمایا پھر وہی پر چم حضرت عمررؓ کو عطا فرمایا۔اس روز شدید لڑائی ہوئی تاہم مسلمان قلعہ فتح نہ کر سکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کل میں اس شخص کو جھنڈا دوں گا جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ فتح عطا فرمائے گا۔چنانچہ اگلے روز وہ پر چم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کو عطا فرمایا جن کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ نے فتح عطا فرمائی۔(ماخوذ از سبل الهدى والرشاد جلد 5 صفحه 120 ، 124 ، 125 دار الكتب العلمية بيروت 1993ء) ابن اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے ابن شہاب زہری سے دریافت کیا کہ حضور نے خیبر کی کھجوروں کے باغات کس شرط پر یہودیوں کو عطا کیے تھے ؟ زہری نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑائی کے بعد خیبر پر فتح حاصل کی تھی اور خیبر مالِ ئے میں سے تھا جو اللہ عزوجل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمایا۔اس کا پانچواں حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھا اور اسے آپ نے مسلمانوں میں تقسیم فرمایا اور یہود میں سے جو لوگ لڑائی کے بعد جلا وطنی پر آمادہ ہوتے ہوئے اپنے قلعوں سے نیچے اترے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلا یا اور بلا کر فرمایا کہ اگر تم چاہو تو یہ اموال تمہارے سپرد کیے جاسکتے ہیں اس شرط پر کہ تم ان میں کام کرو اور اس کا پھل ہمارے اور تمہارے درمیان تقسیم ہو گا۔اس جائیداد کا بٹائی پر کام ہو جائے گا اگر تم چاہو تو یہاں رہنا۔اور میں تم لوگوں کو ٹھہراؤں گا جہاں اللہ تم لوگوں کو ٹھہرائے گا تو یہود نے قبول کر لیا۔یہود ان میں کام کرتے رہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عبد اللہ بن رواحہ کو بھیجا کرتے تھے کہ وہ ان باغات کے پھل تقسیم کرتے اور یہود کے لیے پھلوں کا اندازہ کرنے میں عدل سے کام لیا کرتے تھے۔یہ نہیں کہ اچھا والا پھل اپنے لیے رکھ لیا بلکہ انصاف سے تقسیم ہوتی تھی۔پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو وفات دے دی تو حضرت ابو بکر نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اسی طرح یہود سے معاملہ رکھا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے۔حضرت عمرؓ نے بھی اپنی خلافت کے ابتدا میں یہی معاملہ رکھا پھر حضرت عمرؓ کو معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس بیماری میں آپ کی وفات ہوئی تھی اس میں فرمایا تھا کہ جزیرہ عرب میں دو دین اکٹھے نہ رہیں گے۔حضرت عمر نے اس کی تحقیق کی اور جب یہ بات ثابت ہو گئی۔تب انہوں نے خیبر کے یہود کو لکھا کہ اللہ عزوجل نے تمہاری جلاوطنی کے بارے میں حکم دیا ہے۔مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جزیرہ عرب میں دو دین اکٹھے نہ رہیں گے۔پس یہود میں سے جس کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی عہد ہے تو وہ اسے لے کر میرے پاس آئے تاکہ میں اس کے لیے اسے نافذ کر دوں اور جس کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی عہد