خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 83 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 83

خطبات مسرور جلد 17 83 7 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 فروری 2019 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 15 فروری 2019ء بمطابق 15 تبلیغ 1398 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آج جن صحابہ کا ذکر ہے ان میں سے پہلا نام ہے حضرت خالد بن قیس کا۔حضرت خالد کا تعلق قبیلہ خزرج کی شاخ بَنُو بَيَاضَہ سے تھا۔آپ کے والد قیس بن مالک تھے اور والدہ کا نام سلمى بنت حارثہ تھا۔آپ کی اہلیہ ایم ربیع تھیں جن سے ایک بیٹے عبد الرحمن تھے۔ابن اسحاق کے نزدیک آپ ستر انصار صحابہ کے ساتھ بیعت عقبہ میں شریک ہوئے۔حضرت خالد نے غزوہ بدر اور احد میں شرکت کی تھی۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه - 449-450 خالد بن قيس مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) دوسرے صحابی ہیں حضرت حارث بن خَزَمَہ۔یہ انصاری تھے۔ان کی کنیت ابو بشر تھی۔ان کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج سے تھا۔بنو عبدالاشھل کے حلیف تھے۔حضرت حارث بن خَزمه غزوہ بدر، احد، خندق اور دیگر تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل ہوئے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حارث بن خزمہ اور حضرت ایاس بن بگیر کے درمیان مواخات قائم فرمائی تھی۔تاریخ نہیں یہ ذکر آتا ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی گم ہو گئی تو منافقوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ اعتراض کیا کہ آپ کو اپنی اونٹنی کی تو خبر نہیں ہے تو آسمان کی خبریں کیسے جان سکتے ہیں۔جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی خبر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں وہی باتیں جانتا ہوں جن کے بارے میں خدا مجھے خبر دیتا ہے اور پھر فرمایا کہ اب خدا نے مجھے اونٹنی کے بارے میں خبر دی ہے کہ وہ وادی کی فلاں گھاٹی میں ہے۔اس کا ذ کر پہلے بھی ایک صحابی کے ذکر میں کچھ ہو چکا ہے تو جو صحابی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے مقام سے اونٹنی تلاش کر کے لائے وہ حضرت حارث بن خَزَمہ تھے۔ان کی وفات 40 ہجری میں حضرت علی کے دور خلافت میں 67 سال کی عمر میں مدینہ میں ہوئی۔(اسد الغابه جلد 1 صفحه -02-603 الحارث بن خزمة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) (اصابه جلد 1 صفحه 666 الحارث بن خزمة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 1995ء) اگلے صحابی ہیں جن کا ذکر ہو گا حضرت خنیس بن حذافہ۔ان کی کنیت ابو حذافہ تھی۔حضرت خُنَيْس کی والدہ کا نام ضعیفہ بنتِ حِذْیم تھا۔ان کا تعلق بنی سهم بن عمر و سے تھا۔یہ ایک قبیلہ تھا۔انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دارارقم میں جانے سے پہلے اسلام قبول کیا تھا۔حضرت خُنيس حضرت عبداللہ بن حُذَافَه کے بھائی تھے۔حضرت خُنیس ان مسلمانوں میں شامل تھے جنہوں نے دوسری دفعہ حبشہ کی طرف ہجرت