خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 84
خطبات مسرور جلد 17 84 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 فروری 2019 کی۔حضرت خُنیس کا شمار اولین مہاجرین میں ہوتا ہے۔جب حضرت خنیس نے مدینہ ہجرت کی تو حضرت رفاعه بن عبد المنذر کے پاس رہے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خُنیس اور ابو عبس بن جبر کے در میان عقد مؤاخات قائم کیا۔حضرت خُنیس غزوہ بدر میں شامل ہوئے۔ام المؤمنین حضرت حفصہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل حضرت جنیس کے عقد میں تھیں۔ان کی شادی ہوئی تھی۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 300 خنيس بن حذافة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) الاستيعاب جلد 2 صفحه 452 خنيس بن حزافه ، دار الجيل 1992ء) (اسد الغابه جلد 2صفحه 188 خنيس بن حذافة مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) سیرت خاتم النبیین میں اس کی تفصیل میں لکھا ہے کہ : حضرت عمر بن خطاب کی ایک صاحبزادی تھیں جن کا نام حفصہ تھا۔وہ خُنیس بن حذافہ کے عقد میں تھیں جو ایک مخلص صحابی تھے اور جنگ بدر میں شریک ہوئے تھے۔بدر کے بعد مدینہ واپس آنے پر خُنیس بیمار ہو گئے اور اس بیماری سے جانبر نہ ہو سکے اور ان کی وفات ہو گئی۔حضرت عمرؓ کو حضرت حفصہ کے نکاح ثانی کی بڑی فکر تھی۔اس وقت حضرت حفصہ کی عمر میں سال سے اوپر تھی۔کچھ عرصہ بعد حضرت عمرؓ نے اپنی فطرتی سادگی میں خود عثمان بن عفان سے مل کر ذکر کیا کہ میری لڑکی حفصہ بیوہ ہے۔آپ اگر پسند کریں تو اس کے ساتھ شادی کر لیں مگر حضرت عثمان نے ٹال دیا اس کے بعد حضرت عمرؓ نے حضرت ابو بکر سے شادی کا ذکر کیا کہ آپ اس سے شادی کر لیں لیکن حضرت ابو بکر نے بھی خاموشی اختیار کی۔کوئی جواب نہیں دیا۔اس پر حضرت عمرؓ کو بہت ملال ہوا، رنج ہوا۔انہوں نے اسی دکھ کی حالت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے یہ ساری سرگذشت بیان کی، عرض کی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمرا کچھ فکر نہ کرو۔خدا کو منظور ہوا تو حفصہ کو عثمان اور ابو بکر کی نسبت بہتر خاوند مل جائے گا اور عثمان کو حفصہ کی نسبت بہتر بیوی ملے گی۔یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لئے فرمایا کہ آپ حفصہ کے ساتھ شادی کر لینے اور اپنی لڑکی ام کلثوم کو حضرت عثمان کے ساتھ بیاہ کر دینے کا ارادہ کر چکے تھے جس سے حضرت ابو بکر اور حضرت عثمان دونوں کو اطلاع تھی۔ان کو بتلا دیا تھا اور اسی لئے انہوں نے حضرت عمرؓ کی تجویز کو ٹال دیا تھا۔اس کے کچھ عرصہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان سے اپنی صاحبزادی ام کلثوم کی شادی فرما دی جس کا ذکر گزر چکا ہے اور اس کے بعد آپ نے خود اپنی طرف سے حضرت عمرؓ کو حفصہ کے لیے پیغام بھیجا۔حضرت عمرؓ کو اس سے بڑھ کر اور کیا چاہیے تھا۔انہوں نے نہایت خوشی سے اس رشتہ کو قبول کیا اور شعبان 3 ہجری میں حضرت حفصہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آکر حرم نبوی میں داخل ہو گئیں۔جب یہ رشتہ ہو گیا تو حضرت ابو بکر نے حضرت عمرؓ سے کہا کہ شاید آپ کے دل میں میری طرف سے کوئی ملال ہوا ہو ، دل میں میل پیدا ہوا ہو ، رنج ہوا ہو۔بات یہ ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارادے سے اطلاع تھی لیکن میں آپ کی اجازت کے بغیر یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت کے بغیر آپ کے راز کو ظاہر نہیں کر سکتا تھا۔ہاں آپ کا اگر یہ یعنی اس رشتہ کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ نہ ہو تا تو میں بڑی خوشی سے حفصہ سے شادی کر لیتا۔