خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 81
خطبات مسرور جلد 17 81 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 فروری 2019 حضرت حارث بن الصمہ غزوہ بدر کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے۔جب الروحاء کے مقام پر پہنچے تو آپ میں مزید سفر کی طاقت نہ رہی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو مدینہ واپس بھیج دیا لیکن اموال غنیمت میں آپ کا حصہ بدر میں شامل ہونے والوں کی طرح مقرر فرمایا۔یعنی عملاً شامل نہیں ہوئے تھے لیکن ایک جذبہ کے تحت نکلے تھے لیکن صحت نے اجازت نہیں دی یا اس وقت زیادہ بیمار ہو گئے ہوں گے اس لئے واپس بھجوا دئے گئے لیکن آپ کی نیت اور جذبے کو دیکھ کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بدر میں شامل ہونے والے صحابہ میں شمار فرمایا۔آپ غزوہ احد میں شریک تھے۔اُس دن جب لوگ منتشر ہو گئے تو اُس وقت حضرت حارث ثابت قدم رہے۔حضرت حارث نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے موت پر بیعت کی۔آپ نے عثمان بن عبدالله بن مُغيره مَخرُومی کو قتل کیا یعنی حضرت حارث نے اور سلب لے لیا یعنی جو اس کا جنگی لباس اور سامان تھا وہ لے لیا جس میں اس کی زرہ اور خود اور تلوار تھی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سامان آپؐ کو ہی عطا کیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب عثمان بن عبد اللہ کی ہلاکت کی خبر ہوئی تو فرمایا کہ سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے اسے ہلاک کیا۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 386 حارث بن صمة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) (اسد الغابه جلد 1صفحه 615 حارث بن الصمة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) عثمان بن عبد اللہ بڑا خطرناک دشمن تھا۔یہ ایک مشرک تھا اور غزوہ احد کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان پہنچانے کی غرض سے پورے ہتھیاروں سے لیس ہو کر آیا تھا۔غزوہ احد کے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ میرے چا حمزہ کے ساتھ کیا ہوا ؟ حضرت حارث ان کی تلاش میں نکلے۔جب آپ کو دیر ہو گئی تو حضرت علی روانہ ہوئے اور حارث کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ حضرت حمزہ شہید ہو چکے ہیں۔دونوں صحابہ نے واپس آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس شہادت کی خبر دی۔نے سے جبکہ حضرت حارث بیان کرتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھائی میں تھے فرمایا کہ کیا تم نے عبد الرحمن بن عوف کو دیکھا ہے ؟ میں نے عرض کی۔جی ہاں میں نے انہیں دیکھا ہے۔وہ پہاڑی کے پہلو میں تھے اور ان پر مشرکین کا لشکر حملہ آور تھا۔میں نے ان کی طرف رخ کیا تا کہ ان کو بچاؤں مگر پھر میری نظر آپ پر پڑی اور میں آپ کے پاس آگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فرشتے اس کی حفاظت کر رہے ہیں یعنی عبد الرحمن بن عوف کی فرشتے حفاظت کر رہے ہیں۔ایک اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فرشتے اس کی معیت میں لڑرہے ہیں۔حضرت حارث کہتے ہیں کہ میں عبد الرحمن بن عوف کے پاس گیا۔پھر واپس ہو کے گیا۔جب جنگ خاتمے کو پہنچی تو میں نے دیکھا ان کے سامنے سات آدمی قتل ہوئے پڑے ہیں۔میں نے کہا کہ کیا آپ نے ان سب کو قتل کیا ہے ؟ اس پر عبد الرحمن نے کہا کہ ان تین کو تو میں نے قتل کیا ہے مگر باقیوں کے متعلق میں نہیں جانتا کہ ان کو کس نے قتل کیا ہے۔اس پر میں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا تھا۔یعنی کہ فرشتے اس کا ساتھ دے رہے ہیں۔(اسد الغابه جلد 1صفحه 615 حارث بن الصمة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 2003ء)