خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 79 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 79

خطبات مسرور جلد 17 79 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 فروری 2019 ابوسفیان کا، اس کے قافلے کا علم نہیں ہے۔ہاں البتہ ابو جہل ایک لشکر لے کے آرہا ہے اور وہ پاس ہی موجود ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ باتیں سنیں تو آپ نے جلدی سے نماز سے فارغ ہو کر صحابہ کو مارنے سے روکا اور فرمایا جب وہ سچی بات بتاتا ہے تم اسے مارتے ہو اور جھوٹ کہنے لگتا ہے تو چھوڑ دیتے ہو۔پھر آپ نے خود نرمی کے ساتھ اس سے دریافت فرمایا کہ لشکر اس وقت کہاں ہے ؟ اس نے جواب دیا اس وقت سامنے والے ٹیلے کے پیچھے ہے۔آپ نے پوچھا کہ لشکر میں کتنے آدمی ہیں ؟ اس نے جواب دیا کہ بہت ہیں مگر پوری تعداد مجھے معلوم نہیں ہے۔آپ نے فرمایا اچھا یہ بتاؤ کہ ان کے لئے کھانا کھانے کے لئے ہر روز کتنے اونٹ ذبح ہوتے ہیں ؟ اس نے کہا کہ دس ہوتے ہیں۔دس اونٹ اس قافلے کے لئے ذبح ہوتے ہیں۔سامان کے علاوہ کھانے پینے کا بھی اتنا سامان لے کے آئے تھے۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ دس اونٹ ذبح ہوتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ایک ہزار آدمی ان کے ساتھ آئے ہیں اور حقیقتا وہ اتنے ہی لوگ تھے۔(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے صفحہ 355-356) پھر جن صحابی کا ذکر ہے حضرت ثَعْلَبَه بن عَمْرو، انصاری تھے۔حضرت تغلبہ کا تعلق قبیلہ بنو نجار سے تھا۔آپ کی والدہ کا نام گنبشہ تھا جو کہ مشہور شاعر حضرت حسان بن ثابت کی بہن تھیں۔حضرت ثعلبہ غزوہ بدر سمیت تمام غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک ہوئے۔آپے ان اصحاب میں بھی شامل تھے جنہوں نے بنو سلمہ کے بت توڑے تھے۔آپ کی وفات حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں جنگ جسر یعنی پل والی جنگ میں ہوئی تھی۔جنگ جسر ایرانیوں کے ساتھ 14 ہجری میں ہوئی یا طبری میں 13 ہجری کا درج ہے کہ یہ جنگ ہوئی تھی۔اس جنگ میں دونوں فریق یعنی حضرت ابو عبیڈ کی نگرانی میں مسلمانوں کا لشکر اور بَهُمَن جَاذْوَیہ کی نگرانی میں ایرانی فوج دریائے فرات پر آمنے سامنے تھیں۔دریا کو عبور کر کے جنگ کرنے کے لئے ایک جسر یعنی پل بنایا گیا تھا۔اسی مناسبت سے اسے جنگ جسر کہا جاتا ہے۔بعض کے نزدیک ان کی وفات حضرت عثمان کے دور خلافت میں مدینہ میں ہوئی تھی۔(روض الانف جلد 3 صفحه 158 159 تسمية من كسروا ألهة بنى سلمة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت) الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 386 ثعلبه بن محصن، 340 سلمة بن اسلم دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) (تاريخ الطبری جلد 2 صفحه 366 وقعة القرقس مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1987ء) (تاریخ ابن خلدون جلد 2 صفحه 522 ولاية ابي عبيد مطبوعه دار الفكر بيروت 2000ء) پھر جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام ہے حضرت ثَعْلَبَہ بن غَنَمَہ حضرت ثعلبہ کا نام ایک روایت میں ثَعْلَبَہ بن عَنَمہ بھی بیان ہوا ہے۔حضرت ثعلبہ کی والدہ کا نام جمیرہ بنت قین تھا۔آپ کا تعلق انصار کے قبیلے بنو سلمہ سے تھا۔حضرت ثعلبہ اُن ستر اصحاب میں شامل تھے جنہوں نے بیعت عقبہ ثانیہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔حضرت ثعلبہ جب ایمان لائے تو آپ نے، حضرت معاذ بن جبل اور عبد اللہ بن اُنیس نے مل کر بنو سلمہ کے یعنی اپنے قبیلے کے ہی بت توڑے۔آپ غزوہ بدر، احد اور خندق میں شریک ہوئے اور غزوہ خندق میں هُبَیدہ بن ابی وَهَب نے