خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 78
خطبات مسرور جلد 17 78 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 فروری 2019 اور انہوں نے اپنے اونٹ بٹھائے تھے۔کہنے لگا کہ انہوں نے یہاں اپنے اونٹ بٹھائے تھے ، پانی پیا تھا اور پھر یہاں سے چلے گئے۔ابو سفیان اس جگہ پر آیا جہاں دونوں صحابہ نے اونٹ بٹھائے تھے اور ان دونوں کے اونٹوں کی مینگنیاں اٹھا کر توڑنے لگا۔اس لیے کہ تجسس تھا۔تو پہچان کے لئے یہ بھی توڑنے لگا۔جب اس نے توڑی تو اونٹ کی مینگنیوں میں سے کھجور کی گٹھلی نکلی تو ابوسفیان بولا بخد !!! اہل یثرب کے اونٹوں کا یہی چارا ہے۔یہ تو وہاں سے آئے ہیں۔یہ دونوں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب محمد کے جاسوس تھے۔یعنی دونوں جو شخص آئے تھے یہ تو مدینے سے آئے ہیں اور یہ جاسوس ہیں۔اونٹ کی مینگنیوں سے مجھے یہ اندازہ لگ گیا ہے کہ کیوں یہاں آئے تھے۔کہنے لگا کہ مجھے لگتا ہے کہ یہ لوگ بہت قریب ہیں۔اس کے بعد وہ وہاں سے جلدی جلدی اپنے قافلے کو لے کر روانہ ہو گیا۔(کتاب المغازى للواقدى صفحه 40-41 مطبوعه عالم الكتب بيروت 1984ء) ان عربوں کو اس زمانے میں بھی جاسوسی کے اندازے لگانے کا بڑا ملکہ تھا اور یہ بھی جاسوسی کے ہی انداز تھے۔اس کے ذکر میں، بدر کی جنگ کے ذکر میں سیرت خاتم النبیین میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے یہ لکھا ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے قریب پہنچے تو کسی خیال کے ماتحت جس کا ذکر روایات میں نہیں ہے آپ حضرت ابو بکر صدیق کو اپنے پیچھے سوار کر کے اسلامی لشکر سے کچھ آگے نکل گئے۔اس وقت آپ کو ایک بوڑھا بدوی ملا جس سے آپ کو باتوں باتوں میں یہ معلوم ہوا کہ اس وقت قریش کا لشکر بدر کے بالکل پاس پہنچا ہوا ہے۔آپ یہ خبر سن کر واپس تشریف لے آئے اور حضرت علی اور زبیر بن العوام اور سعد بن وقاص وغیرہ کو دریافت حال کے لئے آگے روانہ فرمایا اور ایک روایت کے مطابق بھیجے جانے والوں میں حضرت بسبس بھی شامل تھے۔پہلے تو یہ لوگ گئے تھے قافلے کی خبر لینے کے لئے۔اب جو پتہ لگا کہ لشکر آرہا ہے تو اس لشکر کی خبر لینے کے لئے جن لوگوں کو بھیجا ان میں یہ شامل تھے۔جب یہ لوگ بدر کی وادی میں گئے تو اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ مکہ کے چند لوگ ایک چشمہ سے پانی بھر رہے تھے۔ان صحابیوں نے ان پر ، جماعت پر حملہ کر کے ان میں سے ایک حبشی غلام کو پکڑ لیا اور اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے۔جب وہ لے کر آئے اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں مصروف تھے۔صحابہ نے یہ دیکھ کر کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو نماز میں مصروف ہیں خود اس غلام سے پوچھنا شروع کیا کہ ابوسفیان کا قافلہ کہاں ہے؟ یہ حبشی غلام چونکہ لشکر کے ہمراہ آیا تھا۔وہ تو اس لشکر کے ہمراہ آیا تھا جو بدر کی جنگ کے لئے آرہا تھا۔اس کو تو قافلے کا علم نہیں تھا اور وہ قافلے سے بے خبر تھا اس نے جواب میں کہا کہ ابو سفیان کا تو مجھے علم نہیں ہے البتہ ابوالحکم یعنی ابو جہل اور عتبہ اور شیبہ اور اُمیہ وغیرہ اس وادی کے دوسرے کنارے ڈیرے ڈالے پڑے ہیں۔صحابہ نے جن کو تو صرف قافلے کا پتہ تھانا، یہی اندازہ تھا اور یہی انہوں نے دماغ میں بٹھایا ہوا تھا تو انہوں نے یہی سمجھا کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے اور دیدہ دانستہ قافلے کی خبر کو چھپانا چاہتا ہے جس پر بعض لوگوں نے اسے کچھ مارا پیٹا بھی، زدو کوب کیا۔لیکن جب وہ اسے مارتے تھے وہ ڈر کے مارے کہہ دیتا تھا کہ اچھا میں بتاتا ہوں اور جب اسے چھوڑ دیتے تو وہ پھر وہی پہلا جواب دیتا تھا کہ مجھے