خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 77
خطبات مسرور جلد 17 77 غزوہ بدر کے علاوہ آپ نے غزوہ احد میں بھی شرکت کی تھی۔خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 فروری 2019 الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 422 بسبس بن عمرو مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) غزوہ بدر کے لئے مدینہ سے نکلنے کا ذکر کرتے ہوئے سیرت خاتم النبیین میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے یہ لکھا ہے کہ : مدینہ سے نکلتے ہوئے آپ نے اپنے پیچھے عبد اللہ بن ام مکتوم کو مدینہ کا امیر مقرر کیا تھا۔مگر جب آپ روحاء کے قریب پہنچے جو مدینہ سے 36 میل کے فاصلہ پر ہے تو غالباً اس خیال سے کہ عبد اللہ ایک نابینا آدمی ہیں اور لشکر قریش کی آمد آمد کی خبر کا تقاضا ہے کہ آپ کے پیچھے مدینہ کا انتظام مضبوط رہے۔آپ نے ابو لبابہ بن مُنْذِر کو مدینہ کا امیر مقرر کر کے واپس بھجوا دیا اور عبد اللہ بن ام مکتوم کے متعلق حکم دیا کہ وہ صرف امام الصلوۃ رہیں مگر انتظامی کام ابو لبابہ سر انجام دیں۔یہ لکھتے ہیں کہ مدینہ کی بالائی آبادی یعنی قباء کے لئے آپ نے عاصم بن عدی کو الگ امیر مقرر فرمایا۔آپ نے جو امراء بھیجے تھے، مقرر فرمائے یا تبدیلیاں کیں وہ یہاں سے اسی مقام سے آپ نے ئسنس یعنی بشبس اور عدی نامی دو صحابیوں کو دشمن کی حرکات و سکنات کا علم حاصل کرنے کے لئے بدر کی طرف روانہ فرمایا اور حکم دیا کہ وہ بہت جلد خبر لے کر واپس آئیں۔" (ماخوذ از سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزابشیر احمد صاحب ایم۔اے صفحہ 354) دو ہفتے پہلے خطبہ میں حضرت عدی بن ابی زَغباء کے ذکر میں اس واقعہ کا ذکر ہو چکا ہے۔جن کو بھیجا گیا تھا ان میں حضرت بسبس اور حضرت عَدِيٌّ بن أبِی زَغباء دونوں شامل تھے۔جب یہ بدر کے مقام پر خبر لینے کے لئے پہنچے تو وہاں حضرت بسبس بن عمرو اور عَدِى بن أبي زَغْبَاء نے کنوئیں کے قریب ایک ٹیلے کے پاس اپنے اونٹ بٹھا کر اپنی مشکیں لیں اور کنوئیں سے پانی بھرا اور وہاں پیا بھی۔اس دوران انہوں نے وہاں دو عورتوں کو باتیں کرتے سنا جو کسی قافلے کے آنے کے بارے میں باتیں کر رہی تھیں۔(سیرت ابن هشام صفحه 617 بسبس و عدى يتجسسان الاخبار مطبوعه تراث الاسلام مصر 1955ء) اور وہاں ایک شخص بھی کھڑا تھا۔بہر حال یہ دونوں واپس آئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان عورتوں کی باتوں کے بارے میں بتایا کہ وہ ایک قافلے کے آنے کے بارے میں اس طرح باتیں کر رہی تھیں۔وہ شخص جو وہاں کھڑا تھا اس کا نام مجدی تھا۔( یہ تفصیل میں پہلے بیان کر چکا ہوں ) تو مورخ لکھتے ہیں کہ اگلی صبح ابوسفیان وہاں پہنچا جبکہ قافلہ بھی وہاں آیا ہوا تھا۔اس نے مسجدی سے پوچھا کہ اے مسجدی ! کیا تو نے ایسے کسی شخص کو دیکھا ہے جو یہاں جاسوسی کے لئے آیا ہو ؟ اور ساتھ یہ بھی کہا کہ اگر تو ہم سے دشمن کا حال چھپائے گا تو قریش میں سے کبھی کوئی بھی شخص تجھ سے صلح نہیں کرے گا۔مجدی نے کہا یعنی وہ شخص جو کھڑا تھا بخدا میں نے یہاں کسی ایسے شخص کو نہیں دیکھا جس کو میں نہ پہچانتا ہوں۔یہاں سے تیرے اور میثرب کے درمیان کوئی دشمن نہیں ہے اور اگر کوئی ہوتا تو وہ مجھ سے مخفی نہ رہ سکتا اور نہ ہی میں تجھ سے اس کو چھپاتا۔وہ کہتا ہے مگر ہاں یہ ہے کہ میں نے دو سواروں کو دیکھا تھا۔وہ اس جگہ رُکے تھے اور اُس جگہ اشارہ کیا جہاں حضرت بسبس اور حضرت عدی رُکے تھے