خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 76
خطبات مسرور جلد 17 76 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 فروری 2019 تاریخ میں یہ بھی ہے کہ حضرت ارقم معاہدہ حلف الفضول میں بھی شامل ہوئے تھے۔(استیعاب جلد 1 صفحه 131 ارقم بن ابی الارقم مطبوعه دار الجيل بيروت 1992ء) وہ معاہدہ جو غریبوں کی مدد کرنے کے لئے اسلام سے پہلے مکہ کے رہنے والے بڑے لوگوں نے کیا تھا جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی شامل تھے۔حضرت ارقم کے بیٹے عثمان بن از قم روایت کرتے ہیں کہ میرے والد کی وفات 53 ہجری میں ہوئی۔اس وقت آپ کی عمر 83 سال تھی۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان کی 55 ہجری میں وفات ہوئی۔عمر کے بارے میں اختلاف ہے کہ اسی سال تھی یا اس سے کچھ اوپر تھی۔حضرت ارقم نے وصیت کی تھی کہ ان کی نماز جنازہ حضرت سعد بن ابی وقاص پڑھائیں جو صحابی تھے۔ان کی وفات کے بعد حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ عَقِیق مقام میں تھے اور وہاں سے دور تھے۔مروان نے کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی کسی غیر حاضر شخص کی وجہ سے دفن نہ کیا جائے۔موجود نہیں ہیں اس لئے صحابی کی نعش کو اس وقت تک رکھا جائے جب تک وہ آنہ جائیں اور چاہا کہ ان کی نماز جنازہ خود پڑھا دیں مگر عبید اللہ بن از قم نے مروان کی بات نہ مانی اور سعد بن ابی وقاص کے آنے پر حضرت ارقم کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور جنت البقیع میں دفن کئے گئے۔(اسد الغابه جلد 1 صفحه 188 ارقم بن ابى الارقم مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) ان کے متعلق ایک روایت یہ بھی ہے کہ ایک دفعہ حضرت ارقم نے بیت المقدس جانے کے لئے رخت سفر باندھا، تیاری کی، جانا چاہتے تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سفر پر جانے کے لئے اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا تم وہاں بیت المقدس میں کسی ضرورت کے لئے یا تجارت کی غرض سے جار ہے ہو ؟ حضرت ار تم نے جواب دیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔کوئی کام نہیں ہے اور نہ تجارت کی غرض سے جانا ہے بلکہ بیت المقدس میں نماز پڑھنا چاہتا ہوں۔تو اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اس مسجد میں ایک نماز اور مسجدوں کی ہزاروں نمازوں سے بہتر ہے یعنی یہاں مدینے میں سوائے کعبہ کے جس پر حضرت ارقم نے اپنا ارادہ بدل لیا۔(اسد الغابه جلد 1صفحه 187 ارقم بن ابى الارقم مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) پھر جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام حضرت بشبش بن عمرو ہے۔ایک روایت میں آپ کا نام بشبش بن بشر بھی آیا ہے۔حضرت بشبش جُهَنِی انصاری کا تعلق قبیلہ بنو سَاعِدَة بن کعب بن خزرج سے تھا جبکہ عروہ بن زبیر کے مطابق آپ کا تعلق بنو طَرِيف بن خزرج سے ہے۔آپ نے غزوہ بدر میں شرکت کی تھی۔آپ کا شمار انصار صحابہ میں ہو تا ہے۔(اسد الغابه جلد 1صفحه 373 بسبس الجهنى مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) آپ کو بُسَيْسَہ اور بُسَيْس اور بنبسہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔(اسد الغابه جلد 1 صفحه 379 بسبه بن عمرو مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء)