خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 75 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 75

خطبات مسرور جلد 17 75 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 فروری 2019 اسلام قبول کرنے کے بعد مسلمانوں کی تعداد 40 ہو گئی تھی اور وہ اس گھر سے باہر نکلے تھے۔یہ گھر حضرت ار قم کی ملکیت میں رہا۔پھر آپ کے پوتوں نے یہ گھر ابو جعفر منصور کو فروخت کر دیا۔(اسد الغابه جلد 1 صفحه 187 ارقم بن ابى الارقم مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) (اصابه جلد 1 صفحه 197 ارقم بن ابى الارقم مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1995ء)(مستدرك على الصحيحين جلد 3 صفحه 574 حدیث 6127 كتاب معرفة الصحابه ارقم بن ابی الارقم دار الكتب العلميه بيروت 2002ء) اس کے بارے میں سیرت خاتم النبیین میں جو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے لکھی ہے تفصیل یہ ہے کہ اسلام کے پہلے تبلیغی مرکز یعنی دارِ ارقم کے بارے میں آپ تحریر فرماتے ہیں کہ : " آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خیال پیدا ہوا کہ مکہ میں ایک تبلیغی مرکز قائم کیا جاوے جہاں مسلمان نماز وغیرہ کے لئے بے روک ٹوک جمع ہو سکیں اور امن و اطمینان اور خاموشی کے ساتھ باقاعدہ اسلام کی تبلیغ کی جاسکے۔اس غرض کے لئے ایک ایسے مکان کی ضرورت تھی جو مرکزی حیثیت رکھتا ہو۔چنانچہ آپ نے ایک نو مسلم ارقم بن ابی ارقم کا مکان پسند فرمایاجو کوہ صفا کے دامن میں واقع تھا۔اس کے بعد تمام مسلمان یہیں جمع ہوتے ، یہیں نماز پڑھتے، یہیں متلاشیان حق آتے۔" یعنی جن کو دین کی تلاش تھی اور اسلام کا پیغام سنتے تھے وہ سننے کے لئے اور سمجھنے کے لئے آتے تھے یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیضیاب ہونے کے لئے آتے تھے " اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کو اسلام کی تبلیغ فرماتے۔اسی وجہ سے یہ مکان تاریخ میں خاص شہرت رکھتا ہے اور دار الاسلام کے نام سے مشہور ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قریباً تین سال تک دار ارقم میں کام کیا یعنی بعثت کے چوتھے سال آپ نے اسے اپنا مرکز بنایا اور چھٹے سال کے آخر تک آپ نے اس میں اپنا کام کیا۔" اپنے اس مشن کو جاری رکھا اور "مور خین لکھتے ہیں کہ دارِ ارقم میں اسلام لانے والوں میں آخری شخص حضرت عمرؓ تھے جن کے اسلام لانے سے مسلمانوں کو بہت تقویت پہنچی اور وہ دارِ ار تم سے نکل کر بر ملا تبلیغ کرنے لگ گئے۔" (سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے صفحہ 129) مدینہ ہجرت کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مؤاخات حضرت ابو طلحہ زید بن سھل کے ساتھ قائم فرمائی۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 185 ارقم بن ابى الارقم مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) حضرت از قم غزوہ بدر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے مال غنیمت میں سے ایک تلوار انہیں دی تھی۔حضرت از قم غزوۂ بدر، احد سمیت تمام غزوات میں شریک ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو مدینہ میں ایک گھر بھی دیا تھا۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صدقات کی وصولی کے لئے بھی مقرر کر کے بھجوایا تھا۔(اسد الغابه جلد 1صفحه 198 ارقم بن ابى الارقم مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) (اصابه جلد 1 صفحه 187 ارقم بن ابى الارقم مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1995ء)