خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 74 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 74

خطبات مسرور جلد 17 74 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 فروری 2019 یعنی اپنے خاوند کے پاس جاؤ۔تم اس کے کہنے سے کوئی ماں واں نہیں بنی۔ان صحابہ کی سیرت بیان ہوتی ہے تو بعض مسائل بھی ساتھ ساتھ حل ہو جاتے ہیں۔حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ سب سے پہلا ظہار جو اسلام میں ہوا۔یعنی بیوی کو ماں کہنے کا وہ یہی حضرت اوس بن صامت کا تھا۔ان کے نکاح میں ان کے چچا کی بیٹی تھی ان سے انہوں نے ظہار کیا تھا۔(اسد الغابه جلد 1صفحه 323 اوس بن صامت مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) بہر حال اللہ تعالیٰ نے یہ حدود قائم کی ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں بھی یہ معاملہ پیش ہوا۔آپ نے فرمایا کہ اس کی یہی سزا ہے۔خلیفہ ثانی کے زمانہ میں اسی طرح ایک معاملہ پیش ہوا آپ نے فرمایا یہی سزا ہے۔اور سوائے اس کے کہ کوئی بہت ہی غریب ہے اور طاقت نہیں ہے تو پھر وہ استغفار کرے اور جس حد تک سکت ہے ، پہنچ ہے وہ اس کی سزا میں دے۔تو بہر حال اللہ تعالیٰ نے بیوی کو ماں یا بہن کہنے کے لئے حدود قائم کی ہیں۔بعضوں کو عادت ہوتی ہے ہر ذراسی بات پر لڑائیاں ہوئیں تو کہہ دیا کہ میرے پر حرام ہو گئی یا یہ ہو گیا تو تم میری ماں کی طرح ہو تم فلاں ہو یا قسم کھالی۔تو یہ سب قسمیں ہیں اور ان پر حدود قائم ہوتی ہیں۔اگر کوئی یہ کہتا ہے تو اس کو یہ سزا ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ غلام کو آزاد کرو یاروزے رکھو یا مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔حضرت اوس بن صامت شاعر بھی تھے۔حضرت اوس بن صامت اور شداد بن اوس انصاری نے بیت المقدس میں رہائش رکھی۔ان کی وفات سر زمین فلسطین کے مقام رملہ میں 34 ہجری میں ہوئی۔اس وقت حضرت اوس کی عمر 72 سال تھی۔(اسد الغابه جلد 1صفحه 323 اوس بن صامت مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) پھر جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام حضرت ارقم بن ابی ارقم ہے۔ان کی کنیت ابو عبد اللہ تھی۔حضرت ارقم کی والدہ کا نام امیمہ بنت عبد الحارث تھا۔بعض روایت میں ان کا نام تُمَاضِرُ بنتِ حُذَيْم اور صفیہ بنت حارث بھی بیان ہوا ہے۔حضرت ارقم کا تعلق قبیلہ بنو مخزوم سے تھا۔آپ اسلام لانے والے اولین صحابہ میں سے تھے۔بعض کے نزدیک جب آپ ایمان لائے تو آپ سے قبل گیارہ افراد اسلام قبول کر چکے تھے۔بعض کہتے ہیں کہ آپ نے ساتویں نمبر پر اسلام قبول کیا۔حضرت عروہ بن زبیر روایت کرتے ہیں کہ حضرت ارقم، حضرت ابو عبیدہ بن جراح اور حضرت عثمان بن مظعون اکٹھے ایک ہی وقت میں ایمان لائے۔حضرت ارقم کا ایک گھر مکہ سے باہر کوہ صفا کے پاس تھا جو تاریخ میں دارِ ارقم کے نام سے مشہور ہے۔دارِ ارقم ان کا گھر تھا۔اس گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام قبول کرنے والے افراد عبادت کیا کرتے تھے۔یہیں پر حضرت عمرؓ نے اسلام قبول کیا تھا۔ان کے اسلام قبول کرنے کے بعد یعنی حضرت عمرؓ کے