خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 73
خطبات مسرور جلد 17 73 خطبہ جمعہ فرمودہ مور محہ 08 فروری 2019 پیشتر اس کے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو چھوئیں۔پس جو اس کی بھی استطاعت نہ رکھتا ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔یہ اس لئے ہے کہ تمہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے طمانیت نصیب ہو۔یہ اللہ کی حدود ہیں اور کافروں کے لئے بہت ہی درد ناک عذاب مقدر ہے۔اس کا ترجمہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی فرمایا ہے کہ : "جو شخص اپنی عورت کو ماں کہ بیٹھے تو وہ حقیقت میں اس کی ماں نہیں ہو سکتی۔ان کی مائیں وہی ہیں جن سے وہ پیدا ہوئے۔سو یہ ان کی بات نامعقول اور سراسر جھوٹ ہے اور خدا معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے اور جو لوگ ماں کہہ بیٹھیں اور پھر رجوع کریں تو اپنی عورت کو چھونے سے پہلے ایک گردن آزاد کر دیں۔یہی خدائے خبیر کی طرف سے نصیحت ہے اور اگر گردن آزاد نہ کر سکیں تو اپنی عورت کو چھونے سے پہلے دو مہینہ کے روزے رکھیں اور اگر روزے نہ رکھ سکیں تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاویں۔" (آریہ دھرم ، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 50) ان کی بیوی حضرت خُوَيْلَه بنتِ مالك بن ثَعْلَبَہ سے روایت ہے، کہ میرے شوہر اوس بن صامت نے مجھ سے ظھار کیا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شکایت لے کر گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بارے میں مجھے فرمارہے تھے کہ اللہ کا تقوی اختیار کر۔وہ تیرا چچازاد بھائی بھی ہے۔مجھے اپنی بات پر اصرار رہا یہاں تک کہ قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی۔انہوں نے کہا ماں کس طرح ہو سکتی ہے۔وہ تمہارا چچازاد بھائی بھی ہے اور تم اس کی بیوی ہو۔کہتی ہیں میں نے بہر حال اس بات پر اصرار کیا یہاں تک کہ قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی کہ قدی سَمِعَ اللهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا - (المجادلة:2) کہ اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو آپ سے اپنے شوہر کے بارے میں جھگڑ رہی تھی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ یعنی تیر اخاوند ایک غلام آزاد کرے۔اب اس کی سزا یہ ہے جو آیت میں بیان ہوئی جس طرح قرآن شریف کا حکم ہے۔اس کے بعد ساری تفصیل ہے جو پہلے بیان ہو چکی ہے کہ ایک غلام کو آزاد کرو۔کہتی ہیں میں نے اس پر عرض کیا کہ اس میں اس کی طاقت نہیں۔کہاں سے لے ؟ وہ تو غریب آدمی ہے۔آپ نے فرمایا پھر دو مہینے کے لگا تار روزے رکھے۔میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! اس کی عمر ایسی ہے کہ وہ لگا تار روزے بھی نہیں رکھ سکتا۔اس کی اس میں سکت نہیں ہے۔تو آپ نے فرمایا۔پھر وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔اس پر میں نے عرض کیا کہ اس کے پاس تو مال بھی کوئی نہیں ہے۔اس کے پاس کچھ نہیں ہے جس سے وہ صدقہ دے۔چونکہ کہتی ہیں میں بیٹھی ہوئی تھی کہ تبھی اس وقت کھجور کا ایک تھیلا آیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کسی نے پیش کیا تو میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! میں کھجوروں کے دوسرے تھیلے کے ساتھ اس کی مدد کروں گی یعنی اگر یہ مجھے مل جائے تو ایک اور تھیلے کا انتظام ہو سکتا ہے۔آپ نے فرمایا ٹھیک ہے۔جلاس کو لے جا۔یہ تھیلا لے جاؤ اور اس میں سے اس کی طرف سے ساٹھ مسکینوں کو کھلاؤ اور پھر اپنے چچا کے بیٹے کے پاس جاؤ۔(سنن ابی داؤد کتاب الطلاق باب فى الظهار حدیث (2214)