خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 72
خطبات مسرور جلد 17 72 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 فروری 2019 اختلاف کرنے والے ہیں وہ کمزور راوی ہیں۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه ،41، 382 عثمان بن عفان اوس بن ثابت مطبوعه دارالکتب العلميه بيروت 1990ء) بن عدى پھر جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام حضرت ثابت بن خَنْساء ہے۔ان کا تعلق قبیلہ بنو غَنم بن نجار سے تھا اور غزوہ بدر میں شامل ہونے کی سعادت ان کو نصیب ہوئی۔ان کے بارے میں اتناہی علم ہوا ہے۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 389 ثابت بن خنساء مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) پھر حضرت اوس بن الصامت بدر کے ایک صحابی تھے جنہوں نے بدر میں حصہ لیا ہے۔حضرت اوس بن صامت حضرت عبادہ بن صامت کے بھائی تھے۔حضرت اوس غزوہ بدر اور احد اور دوسرے تمام غزوات میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اوس بن صامت اور حضرت مَرْثَد بن ابي مَرْشَدَ الْغَنَوِی کے درمیان عقد مواخات کیا۔روایات میں آتا ہے کہ حضرت اوس نے اپنی الميه خُوَيْلَه بنت مالک سے ظہار کیا تھا۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 413 اوس بن صامت مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) (اسد الغابه جلد 1صفحه 323 اوس بن صامت مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) ظھار کہتے ہیں جو عربوں میں یہ رواج تھا کہ اپنی بیوی کو ماں کہہ دیا یا بہن کہہ دیا اس طرح کہنے کے بعد اپنے اوپر حرام کر لیتے تھے یعنی کہ تم میری ماں ہو اس لئے حرام ہو گئی ہو۔اسلام نے اس رسم کو مٹا دیا اور حکم دیا کہ اس کلمہ کے کہنے سے طلاق نہیں ہوتی۔ماں بہن کہہ دیا تو طلاق نہیں ہو جاتی۔ہاں یہ بیہودہ بات ہے جس کی سزا میں اسلام نے کفارہ مقرر کیا ہے۔حضرت اوس نے کفارہ نہیں ادا کیا، کفارہ دینے سے پہلے اپنی اہلیہ سے تعلق قائم کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ یہ غلط ہے۔پندرہ صاع جو ساٹھ مسکینوں کو کھلائیں۔یعنی کفارہ یہ ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو تم کھانا کھلاؤ۔ظہار کے متعلق قرآن کریم میں بھی حکم ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ الَّذِينَ يُظْهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِنْ نِسَائِهِمْ مَّا هُنَّ أُمَّهَتِهِمْ إِنْ أُمَّهُتُهُمْ إِلَّا إِلَى وَلَدْنَهُمْ وَإِنَّهُمْ لَيَقُولُونَ مُنْكَرًا مِنَ الْقَوْلِ وَزُوْرًا۔وَإِنَّ اللهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ۔وَالَّذِينَ يُظْهِرُوْنَ مِن نِّسَائِهِمْ ثُمَّ يَعُوْدُونَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِنْ قَبْلِ أَن يَتَمَاسًا ذَلِكُمْ تُوعَظُونَ بِهِ وَاللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ ، فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَاهُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِنْ قَبْلِ أَن يَتَمَاسًا فَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا ذَلِكَ لِتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُوْلِهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللهِ وَلِلْكَفِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ - (المجادلة: 3 تا 5) تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں کو ماں کہہ دیتے ہیں وہ ان کی مائیں نہیں ہو سکتیں۔ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنم دیا اور یقینا وہ ایک سخت ناپسندیدہ اور جھوٹی بات کہتے ہیں۔اور اللہ یقیناً بہت درگزر کرنے والا اور بہت بخشنے والا ہے۔اور وہ لوگ جو اپنی بیویوں کو ماں کہہ دیتے ہیں پھر جو کہتے ہیں اس سے رجوع کر لیتے ہیں۔یعنی پہلے ماں کہہ دیا۔پھر کہہ دیا اوہو غلطی ہو گئی تو پیشتر اس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو چھوئیں، ایک گردن کا آزاد کرنا ہے یعنی اس زمانے میں تو غلام ہوتے تھے ایک غلام کو آزاد کرو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ وہ ہے جس کی تمہیں نصیحت کی جاتی ہے اور اللہ جو تم کرتے ہو اس سے ہمیشہ باخبر رہتا ہے۔پس جو اس کی استطاعت نہ پاتے ہوں۔(اگر یہ استطاعت نہیں ہے کہ غلام ہے اس کو آزاد کرنا ہے) تو مسلسل دو مہینے کے روزے رکھنا ہے