خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 71
خطبات مسرور جلد 17 71 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 فروری 2019 کی ایک عمر ہوتی ہے وہ ہونی چاہئے۔بہر حال یہ جو آپ نے فرمایا کہ تمہارے بعد کسی کو کافی نہیں ہے۔اس بارے میں ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مجلس میں سوال ہوا کہ قربانی کے بکرے کی عمر کیا ہونی چاہئے تو اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت خلیفہ المسیح الاوّل حضرت مولانا نورالدین وہاں بیٹھے ہوئے تھے ان کو فرمایا کہ آپ جواب دیں۔تو انہوں نے عرض کیا کہ اہل حدیث کے نزدیک دوسال کا ہو ناضروری ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 10 صفحہ 100) یا ہمارے ملکوں میں یہ رواج ہے کہ وہ کہتے ہیں دوند ا ہو نا ضروری ہے۔سامنے کے دو بڑے دانت نکلے ہونے چاہئیں۔تو بہر حال اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بزدہ کو جو فرمایا کہ تمہاری قربانی تو میں اس ایک سال کے پٹھے کی قبول کرتا ہوں لیکن آئندہ کے لئے اور کسی کے لئے نہیں ہے۔بلکہ جو ان بکری یا بکرا ہونا چاہئے اور یہی طریق جماعت میں رائج ہے یا ہمارے فتوے میں ہے جیسا کہ میں نے کہا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔پھر حضرت اسعد بن یزید کا ذکر ہے۔حضرت اسعد کے والد کا نام یزیدِ بنِ الفاکہ تھا اور ان کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج کی شاخ بنو زُریق سے تھا۔آپ غزوہ بدر اور غزوہ احد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل تھے۔علامہ ابن اسحاق نے اشعہ کی بجائے سغد بن یزید کا نام اصحاب بدر میں لکھا ہے۔حضرت آسعد بن یزید کے نام کے بارے میں مختلف آراء ہیں۔بعض نے آپ کا نام سعد بن زید ، سعید بن الفا کیہ اور سعد بن یزید بیان کیا ہے۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 445 اسعد بن یزید مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) (اسد الغابه جلد 2 صفحه 450 سعد بن الفاكة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) پھر ایک بدری صحابی حضرت تمیم بن يعار انصاری تھے۔حضرت تمیم کے والد کا نام یکار تھا۔آپ کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج کی شاخ بنو جِدَارہ بن عوف بن الحارث سے تھا۔آپ غزوہ بدر اور غزوہ احد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل ہوئے تھے۔حضرت تمیم کی اولاد میں بیٹار بنعتی اور بیٹی جمیلہ تھیں۔ان کی والدہ قبیلہ بنو عمر و سے تھیں۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 407 تميم بن يعار مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) پھر جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام حضرت آؤس بن ثابت بن مُنْذِر ہے۔یہ بھی انصاری تھے۔ان کی کنیت ابو شداد تھی۔حضرت اوس کے والد کا نام ثابت تھا۔آپ کی والدہ کا نام سُخطی بنت حارثہ تھا۔آپ مشہور صحابی حضرت شاد بن آؤس کے والد تھے۔آپ کا تعلق انصار کے قبیلہ بنو عمرو بن مالك بن نجار سے تھا۔یہ عقبہ ثانیہ میں شامل تھے نیز ایمان لائے۔غزوہ بدر اور غزوہ احد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل ہوئے۔حضرت حسان بن ثابت (جو مشہور شاعر تھے ) اور حضرت ابی بن ثابت آپ کے بھائی تھے۔حضرت عثمان بن عفان جب مدینہ ہجرت کر کے آئے تو ان کے ہاں ان کا قیام ہوا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن عفان اور حضرت اوس بن ثابت کے درمیان مواخات قائم فرمائی۔ان کی وفات کے بارے میں عبداللہ بن محمد بن عُمارہ انصاری کہتے ہیں کہ ان کی وفات، ان کی شہادت غزوہ احد میں ہوئی تھی۔بعض دوسرے اس سے اختلاف بھی کرتے ہیں لیکن جو