خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 70 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 70

خطبات مسرور جلد 17 70 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 فروری 2019 ں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھی۔(اسد الغابه جلد 6 صفحه 15 ابو امامه بن ثعلبة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) غزوہ احد کے دن مسلمانوں کے پاس دو گھوڑے تھے۔ایک گھوڑار سول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا جس کا نام 'الشکب تھا اور اور دوسرا گھوڑا حضرت ابو بزدہ کے پاس تھا جس کا نام 'مُلا وخ‘ تھا۔(الطبقات الكبرى جلد 1 صفحه 380 ذکر خیل رسول الله الا الله و دوابه مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) حضرت ابو بُزدہ بن نیا بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ قبائل کے پاس تشریف لے گئے۔اُن کے حق میں دعا کی لیکن ایک قبیلے کو آپ نے چھوڑ دیا اور ان کے پاس تشریف نہیں لے کے گئے۔اس پر یہ بات اس قبیلے والوں کو بڑی گراں گزری کہ کیا وجہ ہے ؟۔اس پر انہوں نے اپنے ایک ساتھی کے مال کی تلاشی لی تو اس کی چادر میں سے ایک ہار نکلا جو اس نے خیانت کرتے ہوئے لے لیا تھا۔پھر ان لوگوں نے وہ ہار واپس کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس بھی تشریف لے گئے اور ان لوگوں کے حق میں بھی دعا کی۔(المعجم الكبير للطبرانی جلد 22 صفحه 195 اسنده ابو بردہ بن نیاز حدیث 511 مطبوعه دار احیاء التراث العربی بیروت 2002ء) حضرت ابو بزدہ حضرت علی کے ساتھ تمام جنگوں میں شامل رہے۔آپ کی وفات حضرت معاویہؓ کے ابتدائی دور میں ہوئی۔ان کی وفات کے سال کے بارہ میں مختلف روایات ہیں۔ایک روایت کے مطابق آپ کی وفات 41 ہجری میں ہوئی جبکہ دوسری روایات میں 42 ہجری اور 45 ہجری کا ذکر بھی ملتا ہے۔(اصابه جلد 7 صفحه 32 ابو برده بن نیاز مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1995ء) حضرت براء بن عازب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحیہ کے دن نماز کے بعد ہم سے مخاطب ہوئے اور فرمایا جس نے ہماری نماز جیسی نماز پڑھی اور ہماری قربانی کی طرح قربانی کی تو اس نے ٹھیک قربانی کی اور جس نے نماز سے پہلے قربانی کر لی تو وہ بکری گوشت ہی کے لئے ہوئی۔یعنی یہ قربانی نہیں ہے۔بلکہ عید کی نماز سے پہلے قربانی کرنا وہ تو اس طرح ہی ہے جس طرح گوشت کھانے کے لئے بکری ذبح کر لی۔اس پر حضرت ابُو بُزدہ بن نیار اٹھے (جن صحابی کا ذکر ہو رہا ہے ) اور انہیں کہا یا رسول اللہ ! میں نے تو نماز کے نکلنے سے پہلے ہی قربانی کر لی ہے اور میں یہ سمجھا تھا کہ آج کا دن کھانے پینے کا ہے۔اس لئے میں نے جلدی کی، خود بھی کھایا اور اپنے گھر والوں اور پڑوسیوں کو بھی کھلایا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بکری تو گوشت ہی کے لئے ہوئی۔یہ تمہاری قربانی نہیں ہے۔اس پر حضرت ابو بردہ نے کہا کہ میرے پاس ایک سال کی پٹھیاں یعنی بکری کے مادہ بچے ہیں اور وہ گوشت کی دو بکریوں سے بہتر ہیں یعنی کہ اچھی پلی ہوئی ہیں اور گو ایک سال کی ہیں لیکن دو بکریوں کی نسبت سے زیادہ بہتر ہیں ، موٹی تازی ہیں۔اگر میں یہ قربانی کر دوں تو کیا میری طرف سے کافی ہو گا؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں کر دو لیکن تمہارے بعد کسی کو کافی نہیں ہو گا۔(صحيح البخارى كتاب العيدين باب كلام الامام والناس في الخطبة العيد الخ حدیث 983) تمہیں تو یہ اجازت ہے لیکن تمہارے بعد اور کسی کو اجازت نہیں۔دوسری احادیث بھی یہی بتاتی ہیں کہ ایک تو یہ کہ عید کے بعد قربانی کی جائے اور دوسرے بکری کی قربانی