خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 69
خطبات مسرور جلد 17 69 69 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 فروری 2019 کی مختلف کتابیں ہیں۔ابن اسحاق کہتے ہیں کہ حضرت ابی بن ثابت زمانہ جاہلیت میں فوت ہو گئے تھے اور غزوہ بدر اور غزوہ احد میں جو شریک تھے وہ ان کے بیٹے ابو شَيْخ بن اُبی بن ثابت تھے۔جبکہ علامہ ابن ہشام نے بدر کے شاملین میں حضرت ابو شيخ أبي بن ثابت کو شمار کیا ہے۔حضرت ابی بن ثابت کی وفات کے متعلق روایات میں ملتا ہے کہ آپ واقعہ بئر معونہ کے روز فوت ہوئے جبکہ بعض روایات میں یہ بھی ملتا ہے کہ ان کی وفات غزوۂ احد کے روز ہوئی۔بہر حال یہ بھی روایات سے پتہ چلتا ہے کہ جو صحابی غزوۂ احد کے روز شہید ہوئے وہ آپ نہیں تھے بلکہ آپ کے بھائی حضرت اوس بن ثابت تھے۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 382 ابو شیخ ابی بن ثابت مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) (اسد الغابه جلد 1صفحه 165-166 ابی بن ثابت مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) (اصابه جلد 1 صفحه 179 ابی بن ثابت مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1995ء) (سیرت ابن هشام صفحه 340 من حضر بدراً مطبوعه دار ابن حزم بيروت 2009ء) پھر ایک ذکر ہے حضرت ابو بزدہ بن نیار کا۔کنیت ان کی آبو بزدہ تھی۔ابُو بُزدہ اپنی کنیت سے مشہور تھے۔ان کا نام ہانی تھا۔ایک روایت میں آپ کا نام حارث اور ایک دوسری روایت میں مالک بھی بیان ہوا ہے۔ان کا تعلق قبیلہ بَنُو قُضَاعَہ کے خاندان بلی سے تھا۔حضرت ابو بُزدہ حضرت براء بن عازب کے ماموں تھے۔ایک اور روایت میں آتا ہے کہ حضرت ابو بُزدہ حضرت براء بن عازب کے چچا تھے۔بیعت عقبہ ثانیہ میں شامل ہوئے۔اس کے علاوہ غزوہ بدر، احد، خندق سمیت تمام غزوات میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل ہوئے۔فتح مکہ کے دن بنو حارثہ کا جھنڈا حضرت ابُو بُزدہ کے پاس تھا۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 344 ابو برده بن نیار مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) (اصابه جلد 7 صفحه 31-32 ابو بردہ بن نیار مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1995ء) (اسد الغابه جلد 5 صفحه 358 هانئ بن نیار مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) حضرت ابو عَبْس اور حضرت ابو بُزدہ نے جب اسلام قبول کیا تو اس وقت دونوں نے قبیلہ بنو حارثہ کے بتوں کو توڑا۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 343 ابو عبس بن جبر مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) یعنی اپنے قبیلے کے وہ جو بت تھے، اُن کو ( توڑا تھا)۔حضرت ابو امامہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کے لئے بدر کی طرف کوچ کا ارادہ کیا تو حضرت ابو امامہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلنے کو تیار ہو گئے۔اس پر ان کے ماموں حضرت ابو بزدہ بن نیار نے کہا کہ تم اپنی ماں کی خدمت گزاری کے لئے رک جاؤ۔ماں بیمار تھی ان سے کہا تم رک جاؤ۔حضرت ابو امامہ نے کہا، ان میں بھی جوش تھا کہ اسلام کے خلاف حملہ ہو رہا ہے تو میں بھی جاؤں۔انہوں نے کہا کہ وہ آپ کی بھی بہن ہیں۔مجھے جو کہہ رہے ہیں تو آپ رک جائیں۔جب یہ معاملہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو امامہ کو رکنے کا حکم دیا یعنی بیٹے کو اور حضرت ابو بزدہ لشکر کے ساتھ گئے۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ سے واپس آئے تو حضرت ابو امامہ کی والدہ فوت ہو چکی