خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 67
خطبات مسرور جلد 17 67 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 فروری 2019 تھے۔لکھتے ہیں کہ میں نے ایک بات نوٹ کی کہ آپ کے دل میں واقف زندگی طلباء کا بہت احترام تھا اور کلاس میں اگر کسی کو سختی کے ساتھ کسی بات پر تنبیہ بھی کرنا ہوتی تو اس کی عزت نفس اور وقار کا بھی خیال رکھتے تھے۔پھر لکھتے ہیں کہ ایم ٹی اے کے ابتدائی زمانے میں جب مختلف پروگرام ریکارڈ کرائے گئے تو سعود خان صاحب نے سیرت النبی کے پروگرام ریکارڈ کروائے۔آپ بڑھاپے کی عمر میں تھے لیکن سارا پروگرام بڑی محنت سے خود تیار کرتے اور ہم میں سوالات تقسیم کر کے دیتے۔سارے سوال خود اپنے ہاتھ سے لکھ کر دیتے۔کہتے ہیں کبھی کبھی ماحول کچھ گرم سر د بھی ہو جاتا تھا، پروگرام بنتے ہوئے بحث ہو جاتی تھی کہ اس کو اس طرح نہیں کرنا اس طرح کرنا ہے لیکن ایسے حلیم اور عاجز انسان تھے کہ ان کے ماتھے پر کبھی بل نہیں آتا تھا۔یوں لگتا تھا کہ جیسے ان کے کان میں کوئی تلخ بات پڑی نہیں۔اور کسی دوسرے نے اگر کر دی ہے تو ملکی مسکراہٹ کے ساتھ بڑے آرام سے جہاں سے پروگرام رکا ہو تا تھا وہیں سے ریکارڈنگ دوبارہ شروع کر وا دیتے تھے۔پروفیسر سعود خان صاحب کی وفات کے بعد ان کے ہمسائے میں رہنے والے پڑوسی فضل الہی ملک صاحب نے بڑے پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے جو اظہار کیا یہ تھا کہ انہوں نے بتایا کہ ایسے پڑوسی ہر ایک کو نہیں ملتے۔بہت ہی سادہ مزاج اور عالم آدمی تھے۔ان کے پسماندگان میں ایک بیٹی اور دو بیٹے یاد گار ہیں۔آپ کے ایک بیٹے سعد سعود صاحب یو کے میں ایک جماعت کے صدر کے طور پر بھی خدمت بجالا رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔حقیقت میں ان کے بارے میں جو لکھا گیا ہے جیسا کہ پہلے بھی میں نے کہا کہ ان کی خوبیاں اس سے بہت زیادہ تھیں۔خلافت سے انتہائی محبت اور اطاعت کا تعلق تھا اور غیر معمولی معیار تھا۔اللہ تعالیٰ ان کی اولاد اور نسل کو بھی خلافت اور جماعت سے ہمیشہ وابستہ رکھے اور ان کے درجات بلند فرماتا چلا جائے۔نماز کے بعد میں ان کی نماز جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 22 فروری 2019ء تا 07 مارچ 2019 ، جلد 26 شماره 08-09 صفحہ 05 تا 09)