خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 66 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 66

خطبات مسرور جلد 17 66 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 فروری 2019 پروفیسر سعود خان صاحب دہلوی کے شاگردوں میں مکرم عبد الوہاب آدم صاحب گھانا اور پی کے آڑو صاحب جو یہاں رہے ہیں یہ شامل تھے۔1968ء میں پاکستان واپس آنے کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے مکرم پروفیسر سعود احمد خان صاحب دہلوی کو تعلیم الاسلام کالج میں 1969ء میں تدریس کی ذمہ داری سونپی۔حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے پروفیسر سعود خان صاحب کو جامعہ احمدیہ میں ایک سال کے لئے بطور انگریزی استاد مقرر فرمایا۔جب آپ کا تقرر جامعہ احمدیہ میں ہوا تو اس وقت بھی آپ تعلیم الاسلام کالج میں بطور پروفیسر خدمت کی توفیق پارہے تھے۔چنانچہ 2 / مارچ 1987ء کو آپ نے جامعہ احمدیہ میں ڈیوٹی کا آغاز کیا اور ایک سال تک اس خدمت کو سر انجام دیتے رہے۔پروفیسر سعود خان صاحب دہلوی کے متعلق آپ کے بڑے بھائی مسعود خان دہلوی صاحب، جو ایڈیٹر الفضل بھی رہے ہیں ، کچھ ہی سال ہوئے فوت ہوئے، یہ کہا کرتے تھے کہ ہمارے بھائی سعود احمد موبائل لائبریری ہیں۔ان کی بڑی معلومات تھیں۔علمی آدمی تھے۔آپ کی بیٹی راشدہ صاحبہ لکھتی ہیں کہ میرے والد صاحب نہایت حلیم الطبع، غایت درجہ کے منکسر المزاج اور متبحر عالم تھے۔نہایت عبادت گزار، تہجد گزار بزرگ تھے۔نہایت اکرام ضیف کرنے والے اور متواضع انسان تھے اور حقیقت ہے جو کچھ انہوں نے لکھا وہ ایسے ہی تھے۔ان کے بھتیجے نفیس احمد عتیق جو مربی سلسلہ ہیں کہتے ہیں کہ انتہائی منکسر المزاج تھے۔متقی تھے۔متوکل علی اللہ۔ایک نیک اور سادہ انسان تھے۔آپ کی وفا اور خدمت دینیہ کا جذ بہ تمام واقفین زندگی کے لئے ایک مثالی رنگ رکھتا تھا۔یہ مربی صاحب لکھتے ہیں کہ ایک بار خاکسار کو کہا کہ لباس اور دیگر سہولیات کو بغرض ضرورت استعمال کرنا چاہئے۔فیشن اور تکلف اور آسائش پرستی واقف زندگی کو زیب نہیں دیتی۔آپ کی زندگی میں حیاء کا پہلو بھی بہت نمایاں تھا۔سعود خان صاحب کے شاگرد آئی۔کے۔Gyasi صاحب۔یہ گھا نین ہیں لکھتے ہیں کہ سعود صاحب 1950ء تا 55ء تعلیم الاسلام سیکنڈری سکول کماسی کے بالکل ابتدائی اسٹنٹ ہیڈ ماسٹر یا نائب پر نسپل تھے اور ڈاکٹر ایس۔بی۔احمد صاحب اس کے پہلے ہیڈ ماسٹر تھے۔اور سعود صاحب انگریزی زبان، انگریزی تاریخ اور یورپی تاریخ کے نہایت محنتی اور جید عالم تھے۔یہ ان کو پڑھایا کرتے تھے۔پھر یہ گھانین دوست لکھتے ہیں کہ جہاں تک ان کی انگریزی گرائمر بالخصوص جملوں کے تجزیہ کا تعلق ہے تو اس میں آپ جیسا میں نے کوئی نہیں دیکھا اور کہتے ہیں کہ میری زبان کو بہتر بنانے میں ان کا بہت کردار تھا۔مبشر ایاز صاحب جو جامعہ احمدیہ سینیئر سیکشن ربوہ کے پرنسپل ہیں لکھتے ہیں کہ پروفیسر سعود خان صاحب بہت منکسر المزاج بزرگ اور عالم سلسلہ تھے۔جس عرصہ میں جامعہ احمدیہ میں پڑھاتے رہے ہم بھی طالب علم تھے۔اور جامعہ کے آخری سال تک ہمیشہ بروقت کلاس میں تشریف لاتے اور پیریڈ ختم ہونے تک، آخری منٹ تک پڑھاتے رہتے تھے۔طلباء کی بعض دفعہ کوشش ہوتی تھی کہ ادھر ادھر کی باتوں میں لگالیں اور پڑھائی نہ ہو لیکن آپ بجائے سختی سے یا ڈانٹ ڈپٹ کے بڑے احسن انداز میں اس بات کو ٹال جاتے تھے اور تدر میں جاری رکھتے