خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 65 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 65

خطبات مسرور جلد 17 65 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 فروری 2019 آپ احمد یہ سیکنڈری سکول غانا کے پہلے وائس پرنسپل تھے۔اس کے لئے 30 / اپریل 1950 ء کو آپ کراچی سے روانہ ہوئے اور 130 جون کو کماسی پہنچے۔یعنی کہ مئی اور جون دو مہینے میں یہ سفر کیا اور پہنچے۔( آج ہم پانچ گھنٹے چھ گھنٹے میں پہنچ جاتے ہیں۔اور یکم جولائی سے احمد یہ سیکنڈری سکول کماسی میں تدریس کا آغاز کیا۔نئی زندگی از مسعود حسن خان دہلوی صفحه 277-276 شائع کردہ لجنہ اماءاللہ لاہور 2007ء) ان کا جو سفر تھا اس میں اتنی دیر کیوں لگی؟ اس کے بارے میں ان کے بھتیجے عرفان خان لکھ کر کہتے ہیں کہ آپ اپنی پہلی تقرری پر ربوہ سے غاناروانہ ہوئے اور تین ماہ کے انتہائی تکلیف دہ ( یہ تقریباً دوماہ بنتا ہے ) سفر کے بعد کماسی پہنچے۔اس زمانے میں بحری جہاز بدل بدل کر سفر مکمل کیا جاتا تھا۔ہوائی جہاز سے نہیں بلکہ بحری جہاز سے جاتے تھے۔چنانچہ آپ بھی کراچی سے عدن کے لئے روانہ ہوئے۔ایک سو ساٹھ روپے میں بغیر خوراک والا ٹکٹ حاصل کیا اور عدن سے گھانا تک آپ نے بحری جہاز کے علاوہ بسوں اور ٹرکوں اور ہوائی جہاز کے ذریعہ نائیجیر یاتک سفر کیا۔نائیجیریا کے ہوائی جہاز کی پچپن پاؤنڈ کی ٹکٹ خریدنے کے لئے آپ نے اپناٹر نک اور دیگر اشیاء فروخت کر دیں اور اپنا ذاتی سامان ایک چادر میں باندھ لیا۔پھر نائیجیریا مشن ہاؤس نے آپ کو گھانا تک کا بس کا ٹکٹ دیا۔1950ء میں نائیجیریا پہنچنے کے لئے کچھ رستہ ہوائی جہاز کا سفر کیا اور وہ آپ نے اپنا سامان بیچ کر کیا۔آگے پھر نائیجیریا سے گھانا تک بس پر روانہ کیا گیا۔1950ء میں مغربی اور مشرقی افریقہ اور ہالینڈ کے لئے آٹھ مبلغین احمدیت کی روانگی کے متعلق تاریخ احمدیت میں آپ کا نام سر فہرست ہے اور وہاں نمبر ایک پر لکھا ہے سعود احمد خاں صاحب ( روانگی از لاہور 25 ماه امان 1329 ہجری) برائے غانا۔(ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد 14 صفحہ 286) حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ارشاد پر 1958ء میں پاکستان تشریف لائے اور پنجاب یونیورسٹی سے تاریخ میں ایم۔اے کیا۔ہسٹری میں ایم اے تھے جو انہوں نے بعد میں کیا۔اس عرصے میں آپ کے والد محترم محمد حسن آسان دہلوی صاحب اگست 1955ء میں وفات پاگئے تھے۔جب آپ گھانا ہی تھے تو ان کے والد فوت ہو گئے تھے۔1961ء میں واپس گھانا آپ کا تقرر ہوا جہاں آپ کو پھر بھر پور طریق سے 1968ء تک خدمات دینیہ سر انجام دینے کی توفیق ملتی رہی۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کی منظوری سے حضور کے سفر یورپ کے دوران مسجد مبارک ربوہ میں بعد نماز مغرب ایک " مجلس تلقین عمل کا قیام عمل میں آیا جس کے زیر انتظام روزانہ پندرہ منٹ تربیتی تقریر ہوا کرتی تھی۔اس پروگرام کا آغاز 7 جولائی سے ہوا۔اور یہ نہایت دلچسپی سے سنا جاتا تھا اور علمی اجلاس ہوتا تھا۔اس مجلس میں جن بزرگ علمائے سلسلہ کی تقاریر ہوئیں ان میں آپ بھی شامل تھے۔(ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد 24 صفحہ 393-392) جلسہ سالانہ کے موقع پر تقاریر کی ترجمانی کا نظام قائم ہوا تو آپ کو حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کی تقاریر کا انگریزی میں ترجمہ کرنے کی سعادت حاصل ہوئی اور ربوہ کے آخری جلسہ تک آپ یہ ڈیوٹی سر انجام دیتے رہے۔