خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 64
خطبات مسرور جلد 17 64 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 فروری 2019 آپ کے والد حضرت محمد حسن آسان دہلوٹی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ میں سے تھے۔اسی طرح آپ کے دادا حضرت محمود حسن خان صاحب مدرس پٹیالہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے 313 اصحاب کی فہرست میں 301 نمبر پر آپ کا نام یوں درج فرمایا ہے که : " مولوی محمود حسن خان صاحب مدرس ملازم پٹیالہ۔" (ضمیمہ رسالہ انجام آتھم ، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 328) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تصنیف لطیف " سراج منیر " میں " فہرست آمدنی چندہ برائے طیاری مہمان خانہ و چاہ و غیرہ" کے عنوان کے تحت ان کا نام یوں درج فرمایا ہے۔"مولوی محمود حسن خان صاحب پٹیالہ۔" (سراج منیر ، روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 86-85) پروفیسر سعود خان صاحب کے والد حضرت محمد حسن صاحب آسان دہلوی جب ان کی عمر ابھی دس بارہ سال کی تھی تو انہیں خطبہ الہامیہ کے موقع پر قادیان جا کر اس عظیم الشان نشان کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی توفیق ملی۔(ماخوذ از نئی زندگی از مسعود حسن خان دہلوی صفحه 107 شائع کر وہ لجنہ اماء اللہ لاہور 2007ء) پروفیسر سعود خان صاحب نے اپریل 1945ء میں وقف کیا تھا۔آپ علیگڑھ سے فارسی میں بی اے آنرز تھے۔آپ کے ساتھ آپ کے بھائیوں کے وقف کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے 1955ء میں ایک خطبہ جمعہ میں فرمایا کہ "میں سمجھتا ہوں ماسٹر محمد حسن صاحب آسان نے بھی ایسا نمونہ دکھایا ہے جو قابل تعریف ہے۔وہ ایک معمولی مدرس تھے اور غریب آدمی تھے۔انہوں نے فاقے کر کر کے اپنی اولاد کو پڑھایا اور اسے گریجویٹ کرایا اور پھر سات لڑکوں میں سے چار کو سلسلہ کے سپر د کر دیا۔اب وہ چاروں خدمت دین کر رہے ہیں اور قریباً سارے ہی ایسے اخلاص سے خدمت کر رہے ہیں جو وقف کا حق ہوتا ہے۔" آپ فرماتے ہیں " اگر یہ بچے وقف نہ ہوتے تو ساتوں مل کر شاید دس بیس سال تک اپنے باپ کا نام روشن رکھتے اور کہتے کہ ہمارے ابا جان بڑے اچھے آدمی تھے مگر جب میرا یہ خطبہ چھپے گا۔" حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ "جب میرا یہ خطبہ چھپے گا تو لاکھوں احمدی محمد حسن آسان کا نام لے کر ان کی تعریف کریں گے اور کہیں گے کہ دیکھو یہ کیسا با ہمت احمدی تھا کہ اس نے غریب ہوتے ہوئے اپنے سات بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلائی اور پھر ان میں سے چار کو سلسلے کے سپر د کر دیا۔" یعنی وقف کر دیا اور پھر وہ بچے بھی ایسے نیک ثابت ہوئے کہ انہوں نے خوشی سے اپنے باپ کی قربانی کو قبول کیا اور اپنی طرف سے بھی ان کے فیصلے پر صاد کر دیا۔" (ماخوذ از نئی زندگی از مسعود حسن خان دہلوی صفحه 208 شائع کر دہ لجنہ اماء اللہ لاہور 2007ء) جون 1946 ء سے لے کر اکتوبر 1949 ء تک سعود خان صاحب تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان میں پڑھاتے رہے تھے۔اکتوبر 1949ء میں چند ماہ کے لئے جامعہ احمدیہ میں بطور پروفیسر انگریزی تدریس کے فرائض انجام دئے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کو 1950ء میں غانا مغربی افریقہ میں خدمات دینیہ کے لئے بھجوایا۔تاریخ احمدیت جلد 14 صفحہ 286)