خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 63 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 63

خطبات مسرور جلد 17 63 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 فروری 2019 میں ہمیشہ اس سے خوفزدہ رہوں گا سوائے اس کے کہ شہادت کی موت اس کے شر سے مجھے ٹال دے کہ میں اسلام کی خاطر شہید ہوں تبھی میں سمجھوں گا کہ اس کے شر سے میں محفوظ ہو گیا ہوں جو بات میں نے کہیے۔راوی بیان کرتے ہیں کہ پس آپ کو جنگ یمامہ کے روز شہادت نصیب ہوئی۔(مستدرك على الصحيحين جلد 3 صفحه 248-247 حدیث 4988 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2002ء) ایک بات جوش سے منہ سے نکل گئی لیکن پھر خوف بھی پیدا ہوا اور تمام زندگی یہ خوف رہا حتی کہ آپ کی شہادت ہوئی۔حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کے مقتولین کو ایک گڑھے میں، کنوئیں میں پھینکنے کا حکم دیا۔پس انہیں اس میں پھینک دیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس کھڑے ہو کر فرمایا کہ اے کنوئیں والو! کیا تم نے اس وعدے کو سچا پایا جو تمہارے رب نے تم سے کیا تھا ؟ یعنی کہ بتوں نے۔میں نے تو یقیناً اس وعدے کو سچا پایا ہے جو میرے رب نے مجھ سے کیا تھا۔اور اگر اللہ تعالیٰ سے مراد لی جائے تو وہ وہی تھی کہ تمہیں سزا ملے گی۔بہر حال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تو اس وعدے کو سچا پا یاجو اللہ تعالیٰ نے مجھ سے کیا تھا کہ میں ان کو سزا دوں گا اور تیرے پر غالب نہیں آسکیں گے۔اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! کیا آپ ان لوگوں سے مخاطب ہیں جو مر چکے ہیں ؟ آپ نے فرمایا یقینا یہ جان چکے ہیں کہ تمہارے رب نے تم سے جو وعدہ کیا تھاوہ سچا تھا۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق انہیں کنوئیں میں پھینکا گیا تو حضرت ابو حذیفہ کے چہرے سے ناپسندیدگی کے آثار ظاہر ہوئے کیونکہ ان کے والد کو بھی کنوئیں میں پھینکا جا رہا تھا۔آپ نے ان سے فرمایا کہ اے ابو حذیفہ خدا کی قسم !! ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے تمہیں اپنے والد سے ہونے والا سلوک بر الگ رہا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو حذیفہ سے یہ سوال کیا تو حضرت ابوحذیفہ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم ! مجھے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق کوئی شبہ نہیں لیکن میرا والد بردبار، سچا اور صائب الرائے شخص تھا۔وہ اپنے خیال میں جو سمجھتا تھا وہ اس کو صحیح سمجھتا تھا لیکن اس میں بدنیتی نہیں تھی اور میں چاہتا تھا کہ اللہ اس کی موت سے پہلے اسے اسلام کی طرف ہدایت دے دے۔لیکن جب میں نے دیکھا کہ ایسا ہو نا اب ممکن نہیں رہا اور اس کا وہ انجام ہو ا جو اس کا انجام ہوا تو اس بات نے مجھے دکھی کر دیا۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو حذیفہ کے حق میں بھلائی کی دعا فرمائی۔(مستدرك على الصحيحين جلد 3 صفحه 249 حديث 4995 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2002ء) حضرت ابو حذیفہ نے تمام غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شرکت کی توفیق پائی اور حضرت ابو بکر صدیق کے دور خلافت میں جنگ یمامہ میں 53 یا 54 سال کی عمر میں شہید ہوئے۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 62 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) اب میں جماعت کے ہمارے ایک دیرینہ خادم سلسلہ و بزرگ پروفیسر سعود احمد خان صاحب دہلوی کا ذکر کروں گا جن کی گزشتہ دنوں وفات ہوئی ہے۔21 / جنوری کو بقضائے الہی وفات پاگئے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ