خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 62 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 62

خطبات مسرور جلد 17 62 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 فروری 2019 کافر قیدیوں کو لینے آئے تو آپ نے کہا جب تک یہ دونوں واپس نہیں آجاتے تمہارے قیدی نہیں چھوڑوں گا اس لئے آپ نے انکار کر دیا اور فرمایا کہ میرے آدمی بخیریت مدینہ پہنچ جائیں گے تو پھر میں تمہارے آدمیوں کو چھوڑ دوں گا۔چنانچہ جب وہ دونوں پہنچ گئے تو آپ نے فدیہ لے کر دونوں قیدیوں کو چھوڑ دیا لیکن ان قیدیوں میں سے ایک شخص پر مدینہ کے قیام کے دوران میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق فاضلہ اور اسلامی تعلیم کی صداقت کا اس قدر گہرا اثر ہو چکا تھا کہ اس نے آزاد ہو کر بھی واپس جانے سے انکار کر دیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر مسلمان ہو کر آپ کے حلقہ بگوشوں میں شامل ہو گیا اور بالآخر بئر معونہ میں شہید ہوا۔اس کا نام حکم بن کیسان تھا۔(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے صفحہ 330 تا334) اگر ظلم اور زبر دستی سے مسلمان بنائے جاتے تو اس طرح اسلام قبول نہ ہو تا۔ابو حذیفہ کے بارے میں یہ بھی آتا ہے کہ غزوہ بدر کے دن آپ اپنے والد سے مقابلے کے لئے آگے بڑھے کیونکہ والد اُن کے مسلمان نہیں تھے۔کافروں کے ساتھ آئے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے روک دیا اور فرمایا کہ اسے چھوڑ دو۔کوئی اور اسے قتل کر دے گا۔کسی اور کو ان سے لڑنے دو چنانچہ آپ کے والد، چا، بھائی اور بھتیجے کو قتل کیا گیا۔اس بدر میں وہ سب قتل ہوئے اور حضرت ابوحذیفہ نے بڑے صبر کا مظاہرہ کیا اور اللہ کی رضا پر راضی رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی اس نصرت پر شکر بجالائے جو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں ظاہر کی تھی یعنی فتح عطا فرمائی تھی۔تثبيت دلائل النبوة از عبد الجبار جلد 2 صفحه 585 دار العربيه بيروت) اس واقعہ کے بارے میں ایک اور روایت یہ بھی ملتی ہے کہ ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ غزوہ بدر کے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جس کا مقابلہ عباس سے ہو وہ اسے قتل نہ کرے کیونکہ وہ مجبوری میں نکلے ہیں۔قیدی بنالینا، قتل نہ کرنا۔جب ان کے پاسیہ بات پہنچی، کسی نے ان سے کہی تو اس پر حضرت ابوحذیفہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ پر تو نہیں کہا بلکہ کہیں کسی ساتھی سے کہا کہ کیا ہم اپنے باپوں ، بھائیوں اور رشتہ داروں کو تو قتل کریں لیکن عباس کو چھوڑ دیں۔یہ کیا ہوا؟ خدا کی قسم ! اگر میرے سامنے آئے تو میں ضرور ان پر تلوار چلاؤں گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک جب یہ بات پہنچی تو آپ نے حضرت عمرؓ کو فرمایا کہ یا ابا خفص ! اے ابو حفص !رسول خدا کے چچا کے چہرے پر تلوار سے وار کیا جائے گا !حضرت عمر بیان کرتے ابو تہ ہیں کہ یہ پہلا موقع تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ابو حفص کنیت عطا کی۔حضرت عمرؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ! مجھے اجازت دیں کہ میں تلوار سے ان کی گردن اڑا دوں۔خدا کی قسم ! اس میں نفاق پایا جاتا ہے جس نے یہ بات کی ہے۔حضرت ابو حذیفہ کہا کرتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو منع کر دیا کہ نہیں یہ نہیں ہو گا لیکن حضرت ابو حذیفہ بیان کیا کرتے تھے کہ میں اس بات کے شر سے جو اس دن میں نے کہی، (اُن کو احساس ہو گیا کہ میں نے بڑی غلط بات کہہ دی ہے، امن میں نہیں رہ سکتا۔ایسی بات میں نے کہہ دی ہے جس کی وجہ سے میں امن میں نہیں رہ سکتا۔