خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 61
خطبات مسرور جلد 17 61 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 فروری 2019 ساتھ مدینہ پر حملہ کی تیاری شروع کر دی۔بہر حال اس واقعہ پر مسلمان اور کفار ہر دو میں بہت چہ میگوئیاں ہوئیں۔یہ باتیں ہونے لگیں کہ دیکھو حرمت کے مہینے میں انہوں نے حملہ کیا ہے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب سیرت خاتم النبیین میں لکھتے ہیں کہ بالآخر ذیل کی قرآنی وحی نازل ہو کر مسلمانوں کی تشفی کا موجب بنی کہ يَسْتَلُوْنَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيْهِ قُلْ قِتَالُ فِيْهِ كَبِيرُ - وَصَةٌ عَنْ سَبِيْلِ اللَّهِ وَ كُفَرُ بِهِ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَهْلِهِ مِنْهُ أَكْبَرُ عِنْدَ اللهِ وَ الْفِتْنَةُ اكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ۔وَلَا يَزَالُونَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ حَتَّى يَرُدُّوكُمْ عَنْ دِينِكُمْ إِنِ اسْتَطَاعُوا (البقرة: 218) یعنی لوگ تجھ سے پوچھتے ہیں کہ شہر حرام میں لڑنا کیسا ہے ؟ تو ان کو جواب دے کہ بیشک شہر حرام میں لڑنا بہت بُری بات ہے لیکن شہر حرام میں خدا کے دین سے لوگوں کو جز ارو کنا بلکہ شہر حرام اور مسجد حرام دونوں کا کفر کرنا یعنی ان کی حرمت کو توڑنا اور پھر حرم کے علاقے سے ان کے رہنے والوں کو بزور نکالنا جیسا کہ اے مشرکو ! تم لوگ کر رہے ہو ، مسلمانوں کو نکال رہے ہو۔یہ سب باتیں خدا کے نزدیک شہر حرام میں لڑنے کی نسبت بھی بہت زیادہ بری ہیں۔اور زیادہ بُری بات ہے اور یقینا شہر حرام میں ملک کے اندر فتنہ پیدا کرنا اس قتل سے بد تر ہے جو فتنہ کو روکنے کے لئے کیا جاوے۔اور اے مسلمانو ! کفار کا تو یہ حال ہے کہ وہ تمہاری عداوت میں اتنے اندھے ہو رہے ہیں کہ کسی وقت اور کسی جگہ بھی وہ تمہارے ساتھ لڑنے سے باز نہیں آئیں گے اور وہ اپنی یہ لڑائی جاری رکھیں گے حتی کہ تمہیں تمہارے دین سے پھیر دیں بشر طیکہ وہ اس کی طاقت پائیں۔چنانچہ تاریخ سے ثابت ہے کہ اسلام کے خلاف رؤسائے قریش اپنے خونی پر اپیگینڈے کو اشهر الحرم میں بھی برابر جاری رکھتے تھے۔یہ حرمت والے جتنے مہینے تھے ان میں جاری رکھتے تھے بلکہ ان مہینوں میں حرمت والے مہینوں کے اجتماعوں اور سفروں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ ان مہینوں میں اپنی مفسدانہ کارروائیوں میں اور بھی زیادہ تیز ہو جاتے تھے اور پھر کمال بے حیائی سے اپنے دل کو جھوٹی تسلی دینے کے لئے وہ عزت کے مہینوں کو اپنی جگہ سے ادھر اُدھر منتقل کر دیتے تھے جسے وہ نینیء کے نام سے پکارتے تھے۔مسلمانوں کے ساتھ تو انہوں نے فتح مکہ تک یہی سلوک رکھا ہے بلکہ انتہا کر دی۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے الفاظ استعمال کئے ہیں کہ انہوں نے تو غضب ہی کر دیا تھا کہ صلح حدیبیہ کے زمانے میں باوجود پختہ عہد و پیمان کے کفار مکہ اور ان کے ساتھیوں نے حرم کے علاقے میں مسلمانوں کے ایک حلیف قبیلے کے خلاف تلوار چلائی اور پھر جب مسلمان اس قبیلے کی حمایت میں نکلے تو ان کے خلاف بھی عین حرم میں تلوار استعمال کی۔پس اس جواب سے جو اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں نازل فرمایا مسلمانوں کی تسلی تو ہونی ہی تھی، قریش بھی کچھ ٹھنڈے پڑ گئے۔اور اس دوران میں ان کے آدمی بھی اپنے دو قیدیوں کو چھڑوانے کے لئے مدینہ پہنچ گئے۔جو دو قیدی وہ لے کے آئے تھے یہ گئے ہوئے مسلمان تھے، جو پکڑ لئے تھے نا۔لیکن چونکہ ابھی تک سعد بن ابی وقاص اور عشبہ واپس نہیں آئے تھے۔جن کی اونٹنی گم ہو گئی تھی وہ واپس نہیں پہنچے تھے۔ان سے مل بھی نہیں سکے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے متعلق سخت خدشہ تھا کہ اگر وہ قریش کے ہاتھ پڑ گئے تو قریش انہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے۔اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی واپسی تک قیدیوں کو چھوڑنے سے انکار کر دیا۔جب