خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 60 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 60

خطبات مسرور جلد 17 60 60 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 فروری 2019 مشورہ کیا کہ اب کیا کرنا چاہیے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو خفیہ خفیہ خبر رسانی کے لئے بھیجا تھا لیکن دوسری طرف قریش سے جنگ شروع ہو چکی تھی اور اب دونوں حریف ایک دوسرے کے سامنے تھے۔اور پھر طبعاً یہ اندیشہ بھی تھا کہ اب جو قریش کے اس قافلے والوں نے مسلمانوں کو دیکھ لیا ہے تو اس خبر رسانی کا راز بھی مخفی نہ رہ سکے گا۔اور ایک وقت یہ بھی تھی کہ بعض مسلمانوں کو خیال تھا کہ شاید یہ دن رجب یعنی شہر حرام کا آخری ہے۔(حرمت والے مہینے کا آخری دن ہے ) جس میں عرب کے قدیم دستور کے مطابق لڑائی نہیں ہونی چاہیے تھی۔اور بعض سمجھتے تھے کہ رجب گزر چکا ہے اور شعبان شروع ہے۔اور بعض روایات میں یہ ہے کہ یہ سریہ جمادی الآخر میں بھیجا گیا تھا اور شک یہ تھا کہ یہ دن جمادی کا ہے یار جب کا؟ لیکن دوسری طرف نخلے کی وادی بھی عین حرم کے علاقے کی حد پر واقع تھی۔اور یہ ظاہر تھا کہ اگر آج ہی کوئی فیصلہ نہ ہوا تو کل کو یہ قافلہ حرم کے علاقے میں داخل ہو جائے گا جس کی حرمت یقینی ہوگی۔غرض ان سب باتوں کو سوچ کر ان چھ مسلمانوں نے یہی فیصلہ کیا کہ قافلے پر حملہ کر کے یا تو قافلے والوں کو قید کر لیا جائے یا مار دیا جائے۔چنانچہ انہوں نے اللہ کا نام لے کر حملہ کر دیا جس کے نتیجہ میں کفار کا ایک آدمی جس کا نام عَمْرو بن الْحَضْرَ مِی تھا مارا گیا اور دو آدمی قید ہو گئے۔لیکن چوتھا آدمی بھاگ نکلا اور مسلمان اسے پکڑ نہ سکے اور اس طرح ان کی تجویز جو تھی کہ ان کو پکڑ لیا جائے یا مار دیا جائے وہ کامیاب ہوتے ہوتے رہ گئی۔اس کے بعد مسلمانوں نے قافلے کے سامان پر قبضہ کر لیا اور چونکہ قریش کا ایک آدمی بچ کر نکل گیا تھا اور یقین تھا کہ اس لڑائی کی خبر جلدی مکہ پہنچ جائے گی۔عبد اللہ بن جخش اور اس کے ساتھی سامان غنیمت لے کر جلدی جلدی مدینہ کی طرف واپس لوٹ آئے۔مستشرقین بھی اس پر اعتراض کرتے ہیں کہ یہ دیکھو یہ جان کر بھیجا گیا تھا۔قافلے پر حملہ کروایا گیا، جو قطعا غلط ہے۔بہر حال حقیقت یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ علم ہوا کہ صحابہ نے قافلے پر حملہ کیا تھا تو آپ سخت ناراض ہوئے۔چنانچہ روایت میں آتا ہے کہ جب یہ جماعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ کو سارے ماجرے کی اطلاع ہوئی تو آپ سخت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ میں نے تمہیں شہر حرام میں لڑنے کی اجازت نہیں دی۔اور پھر آپ نے مال غنیمت لینے سے انکار کر دیا کہ اس میں سے میں کچھ بھی نہیں لوں گا۔اس پر عبد اللہ اور ان کے ساتھی سخت نادم اور پشیمان ہوئے اور انہوں نے خیال کیا کہ بس اب ہم خدا اور اس کے رسول کی ناراضگی کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔ان میں بڑا خوف پیدا ہوا۔صحابہ نے بھی ان کو سخت ملامت کی۔مدینہ میں جو صحابہ تھے انہوں نے بھی کہا کہ تم نے وہ کام کیا جس کا تمہیں حکم نہیں دیا گیا تھا اور تم نے شہر حرام میں لڑائی کی۔حرمت والے مہینے میں لڑائی کی حالانکہ اس مہم میں تو تم کو بالکل مطلقا لڑائی کا حکم نہیں تھا۔دوسری طرف قریش نے بھی شور مچایا کہ مسلمانوں نے شہر حرام کی حرمت کو توڑ دیا ہے اور چونکہ جو شخص مارا گیا تھا یعنی عَمْرو بن الْحَضْرَ مِی وہ ایک رئیس آدمی تھا اور پھر وہ عتبہ بن ربیعہ رئیس مکہ کا حلیف بھی تھا اس لئے بھی اس وقت اس واقعہ نے قریش کی آتش غضب کو بہت بھڑ کا دیا اور انہوں نے آگے سے بھی زیادہ جوش و خروش کے