خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 59
خطبات مسرور جلد 17 59 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 فروری 2019 اور کیا ان کے ارادے ہیں۔اور اس کو دیکھنے کے لئے کوئی ایسی تدبیر کی جائے کہ قریب سے ان کی معلومات ملتی رہیں تاکہ بروقت اطلاع ہو جائے اور مدینہ پر ہر قسم کے حملہ کا جو خطرہ ہے اس سے محفوظ رکھا جائے۔چنانچہ اس غرض کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ مہاجرین کی ایک پارٹی تیار کی اور مصلحتا اس پارٹی میں ایسے آدمیوں کو رکھا جو قریش کے مختلف قبائل سے تعلق رکھتے تھے تاکہ قریش کے مخفی ارادوں کے متعلق خبر حاصل کرنے میں آسانی ہو اور پارٹی پر آپ نے اپنے پھوپھی زاد بھائی عبد اللہ بن جخش کو امیر مقرر فرمایا۔اس میں یہ ابو حذیفہ بن عُشبہ بھی شامل تھے۔اور اس خیال سے کہ اس پارٹی کی غرض و غایت عامتہ المسلمین سے بھی مخفی رہے، کسی کو پتہ نہ چلے آپ نے اس سریہ کو روانہ کرتے ہوئے اس سریہ کے امیر کو بھی یہ نہیں بتایا کہ تمہیں کہاں اور کس غرض سے بھیجا جا رہا ہے بلکہ چلتے ہوئے ان کے ہاتھ میں ایک سر بمہر خط دے دیا، سیل (seal) کر کے ایک خط دے دیا اور فرمایا کہ اس خط میں تمہارے لئے ہدایات درج ہیں۔جب تم مدینہ سے، سمت بتادی، اس طرف دو دن کا سفر طے کر لو تو پھر اس خط کو کھول کر اس کی ہدایت کے مطابق، جو خط میں ہدایات ہیں ان کے مطابق عمل درآمد کرنا۔چنانچہ عبد اللہ اور ان کے ساتھی اپنے آقا کے حکم کے ماتحت روانہ ہو گئے اور جب دو دن کا سفر طے کر چکے تو عبد اللہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو کھول کر دیکھا تو اس میں یہ الفاظ درج تھے کہ تم مکہ اور طائف کے درمیان وادگی نخلہ میں جاؤ اور وہاں جا کر قریش کے حالات کا علم لو اور پھر ہمیں اطلاع کر دو۔اور چونکہ مکہ سے اس قدر قریب ہو کر خبر رسانی کرنے کا کام بڑا نازک تھا آپ نے خط کے نیچے یہ ہدایت بھی لکھی تھی کہ اس مشن کے معلوم ہونے کے بعد اگر تمہارا کوئی ساتھی اس پارٹی میں شامل رہنے سے متامل ہو ، اس کو کسی قسم کا کوئی تامل ہو ، روک ہو تو اگر وہ واپس چلا آنا چاہے تو اسے واپس آنے کی اجازت ہے۔عبد اللہ نے آپ کی ہدایت اپنے ساتھیوں کو سنادی اور سب نے یک زبان ہو کر بخوشی اس خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا اور کہا کہ ہم حاضر ہیں۔اس کے بعد یہ جماعت نخلہ کی طرف روانہ ہوئی۔راستہ میں سعد بن ابی وقاص اور عُتبہ بن غزوان کا اونٹ گم گیا اور وہ اس کی تلاش کرتے کرتے اپنے ساتھیوں سے بچھڑ گئے اور باوجود بہت تلاش کے انہیں نہ مل سکے اور اب یہ پارٹی صرف چھ آدمیوں پر رہ گئی۔چھ کس کی رہ گئی تو یہ چھ آدمی اپنے مشن کے لئے آگے چل پڑے۔مسلمانوں کی ایک چھوٹی سی جماعت نخلہ پہنچی اور اپنے کام میں یعنی خبر لینے کے کام میں مصروف ہو گئی کہ کفار مکہ کے کیا ارادے ہیں ؟ مدینہ پر حملہ کرنے کا ارادہ تو نہیں ؟ یا اب ان کے کیا منصوبے بن رہے ہیں ؟ ان میں سے بعض نے اخفائے راز کے خیال سے اپنے سر کے بال بھی منڈوا دئے تاکہ راہ گیر وغیرہ، جو گزرنے والے ہیں ان کو عمرے کے خیال سے آئے ہوئے لوگ سمجھ کر کسی قسم کا شبہ نہ کریں۔یہی سمجھیں کہ شاید یہ لوگ بھی عمرے کے لئے جارہے ہیں۔انہوں نے اپنے بال منڈوا دئے ہیں۔کہتے ہیں لیکن ابھی ان کو وہاں پہنچے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ اچانک وہاں قریش کا ایک چھوٹا سا قافلہ بھی آگیا جو طائف سے مکہ کی طرف جارہا تھا اور ہر دو جماعتیں ایک دوسرے کے سامنے ہو گئیں۔ان کو پتہ لگ گیا کہ یہ مسلمان ہیں۔انہوں نے ان سے جنگ کرنے کی ٹھان لی، دونوں آمنے سامنے ہو گئے۔مسلمانوں نے آپس میں