خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 58
خطبات مسرور جلد 17 58 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 فروری 2019 دن بدن اپنی ایز اور سانی میں ترقی کرتے جاتے تھے اور ان کے مظالم روز بروز بڑھ رہے تھے اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر دوسرے مسلمانوں نے بھی خفیہ خفیہ ہجرت کی تیاری شروع کر دی اور موقع پا کر آہستہ آہستہ نکلتے گئے۔یہ ہجرت کا سلسلہ ایسا شروع ہوا کہ بالآخر ان مہاجرین حبشہ کی تعداد ایک سو ایک تک پہنچ گئی جن میں اٹھارہ عورتیں بھی تھیں۔اور مکہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بہت ہی تھوڑے لوگ مسلمان رہ گئے۔اس ہجرت کو بعض مورخین ہجرت حبشہ ثانیہ کے نام سے بھی موسوم کرتے ہیں۔(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے صفحہ 146 تا 149) ایک پہلی ہجرت تھی اور پھر بعد میں جو دوسرے لوگ گئے۔اسی طرح بعد میں جب ہجرت مدینہ کی اجازت ہوئی ہے تو ابو حذیفہ اور حضرت سالم جو آپ کے آزاد کردہ غلام تھے دونوں مدینہ ہجرت کر گئے۔پہلی ہجرت تو انہوں نے حبشہ میں کی تھی۔اس زمانے میں واپس بھی آگئے۔پھر دوسری ہجرت انہوں نے مدینہ کی جہاں آپ دونوں حضرت عباد بن بشر کے ہاں قیام پذیر ہوئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوحذیفہ اور حضرت عباد بن بشر کے در میان عقد مؤاخات قائم فرمایا۔آپس میں بھائی چارہ قائم فرمایا۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 62 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) حضرت ابو حذیفه سر یہ حضرت عبد الله بن جخش میں بھی شامل تھے۔(سیرت ابن هشام صفحه 416 باب سرية عبد الله بن جحش مطبوعه دارالكتب العلمية 2001ء) یہ سر یہ جو عبد اللہ بن جحش کا تھا اس کی تفصیل اور پس منظر کی کچھ تفصیل جو سیرت خاتم النبیین میں ہے پیش کرتا ہوں۔مکہ کے ایک رئیس گزز بن جَابِرِ فِهْرِی نے قریش کے ایک دستہ کے ساتھ کمال ہوشیاری سے مدینہ کی چراگاہ پر اچانک حملہ کیا جو شہر سے صرف تین میل پر تھی اور مسلمانوں کے اونٹ وغیرہ لوٹ کر لے گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع ہوئی تو آپ فورا زید بن حارثہ کو اپنے پیچھے امیر مقرر کر کے اور مہاجرین کی ایک جماعت کو ساتھ لے کر اس کے تعاقب میں نکلے اور سفوان تک جو بدر کے پاس ایک جگہ ہے اس کا پیچھا کیا مگر وہ بیچ کر نکل گیا۔اس غزوہ کو غزوہ بدر الاولیٰ بھی کہتے ہیں۔پھر لکھا ہے گزز بن جابر کا یہ حملہ ایک معمولی بدویانہ غارت گری نہیں تھی یعنی یہ نہیں تھا کہ کسی بدو نے آکر حملہ کر دیا اور جہالت میں صرف چوری اور ڈاکہ کے لئے حملہ کیا بلکہ یقیناوہ قریش کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف خاص ارادے سے آیا تھا بلکہ بالکل ممکن ہے کہ اس کی نیت خاص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو نقصان پہنچانے کی ہو۔مگر مسلمانوں کو ہوشیار پاکر ان کے اونٹوں پر ہاتھ صاف کرتا ہو انکل گیا۔اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قریش مکہ نے یہ ارادہ کر لیا تھا کہ مدینہ پر چھاپے مار مار کر مسلمانوں کو تباہ و برباد کیا جائے۔گرز بن جابر کے اچانک حملے نے طبعاً مسلمانوں کو بہت زیادہ خوفزدہ کر دیا، متوحش کر دیا اور چونکہ رؤسائے قریش کی یہ دھمکی پہلے سے موجود تھی کہ ہم مدینہ پر حملہ آور ہوں گے اور حملہ کر کے مسلمانوں کو تباہ و برباد کر دیں گے مسلمان سخت فکر مند ہوئے اور انہی خطرات کو دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارادہ فرمایا کہ قریش کی حرکات و سکنات کا قریب سے ہو کر علم حاصل کیا جائے۔دیکھا جائے کہ ان کے کیا منصوبے ہیں