خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 57
خطبات مسرور جلد 17 57 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 فروری 2019 خصوصیت کے ساتھ خدا کی وحدانیت اور اس کی قدرت اور جبروت کا نہایت فصیح و بلیغ رنگ میں نقشہ کھینچا گیا تھا اور اس کے احسانات یاد دلائے گئے ہیں اور پھر ایک نہایت پر رعب اور پر جلال کلام میں قریش کو ڈرایا گیا تھا کہ اگر وہ اپنی شرارتوں سے باز نہ آئے تو ان کا وہی حال ہو گا جو ان سے پہلی قوموں کا ہوا جنہوں نے خدا کے رسولوں کی تکذیب کی اور پھر آخر میں ان آیات میں ہی حکم دیا گیا تھا کہ آؤ اور اللہ کے سامنے سجدے میں گر جاؤ۔اور ان آیات کی تلاوت کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور سب مسلمان یکلخت سجدے میں گر گئے تو اس کلام اور اس نظارے کا ایسا ساحرانہ اثر قریش پر ہوا، ان پر بھی بڑا اچھا، بڑا عجیب اثر ہوا کہ وہ بھی بے اختیار ہو کر مسلمانوں کے ساتھ سجدے میں گر گئے۔حضرت میاں بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کیونکہ ایسے موقعوں پر ایسے حالات کے ماتحت جو بیان ہوئے ہیں بسا اوقات انسان کا قلب مرعوب ہو جاتا ہے اور وہ بے اختیار ہو کر ایسی حرکت کر بیٹھتا ہے جو دراصل اس کے اصول اور مذہب کے خلاف ہوتی ہے۔چنانچہ ہم نے دیکھا ہے کہ بعض اوقات ایک سخت اور ناگہانی آفت کے وقت ایک دہر یہ بھی اللہ اللہ یا رام رام پکار اٹھتا ہے اور قریش تو دہر یہ نہ تھے بلکہ بہر حال خدا کی ہستی کے قائل تھے گوبتوں کو شریک ٹھہراتے تھے۔آجکل بھی ہم دیکھتے ہیں، کئی دہریوں سے بات ہوتی ہے۔جب ان سے پوچھو گے کہ اگر تمہیں کوئی مسئلہ پیش آجائے تو ایک دم خدا کا نام تمہارے ذہن دماغ میں آتا ہے یا منہ سے آتا ہے تو تسلیم کرتے ہیں کہ آتا ہے۔بہر حال یہ اس سورت کے پڑھنے کا، سورت کے الفاظ کا اور مسلمانوں کے عمل کا ایک اثر تھا کہ کفار کے رؤساء جو تھے وہ بھی ساتھ ہی سجدے میں گر گئے۔بہر حال مسلمانوں کی جماعت یکلخت سجدے میں گر گئی تو اس کا ایسا ساحرانہ اثر ہوا کہ ان کے ساتھ قریش بھی بے اختیار ہو کر سجدے میں گر گئے۔لیکن ایسا اثر عموماً وقتی ہوتا ہے اور انسان پھر جلد ہی اپنی اصل حالت کی طرف لوٹ جاتا ہے۔چنانچہ کفار بھی اسی طرح واپس لوٹ گئے۔ان کا وہی حال ہو گیا۔بہر حال یہ ایک واقعہ ہے جو صحیح احادیث سے ثابت ہے۔بخاری میں بھی درج ہے۔پس اگر مہاجرین حبشہ کی واپسی کی خبر صحیح ہے ، درست ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعہ کے بعد قریش نے جو مہاجرین حبشہ کے واپس لانے کے لئے بے تاب ہو رہے تھے کہیہ لوگ ہجرت کر کے کیوں چلے گئے، ہمارے ہاتھوں سے نکل گئے۔اپنے اس فعل کو آڑ بنا کر خود ہی یہ افواہ مشہور کر دی ہو گی کہ قریش مکہ مسلمان ہو گئے ہیں اور یہ کہ اب مکہ میں مسلمانوں کے لئے بالکل امن ہے۔اور جب یہ افواہ مہاجرین حبشہ تک پہنچی تو وہ طبعاً اسے سن کر بہت خوش ہوئے اور سنتے ہی خوشی کے جوش میں بغیر سوچے سمجھے واپس آگئے۔لیکن جب وہ مکہ کے پاس پہنچے تو حقیقت پتہ چلی اور حقیقت امر سے آگاہی ہوئی جس پر بعض تو چھپ پ کر اور بعض کسی طاقتور صاحب اثر رئیس قریش کی حفاظت میں ہو کر مکہ میں آگئے اور بعض واپس چلے گئے۔پس اگر قریش کے مسلمان ہو جانے کی افواہ میں کوئی حقیقت تھی تو وہ صرف اس قدر تھی جو سورت نجم کی تلاوت پر سجدہ کرنے والے واقعہ میں بیان ہوئی ہے۔بہر حال اللہ بہتر جانتا ہے۔بہر حال اگر مہاجرین حبشہ واپس آئے بھی تھے تو ان میں سے اکثر پھر واپس چلے گئے اور چونکہ قریش چھپ