خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 56 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 56

خطبات مسرور جلد 17 56 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 فروری 2019 بن بادشاہ نجاشی کہلا تا تھا۔حبشہ کے ساتھ عرب کے تجارتی تعلقات تھے۔جب یہ ہجرت کر کے گئے ہیں تو اس وقت کے نجاشی بادشاہ کا جو اپنا نام تھا وہ اصحمہ تھا جو ایک عادل، بیدار مغز اور مضبوط بادشاہ تھا۔بہر حال جب مسلمانوں کی تکلیف انتہا کو پہنچ گئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا کہ جن جن سے ممکن ہو حبشہ کی طرف ہجرت کر جائیں۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانے پر رجب پانچ نبوی میں گیارہ مرد اور چار عورتوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ان میں سے زیادہ معروف کے نام یہ ہیں: حضرت عثمان بن عفان اور ان کی زوجہ رقیہ بنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم عبدالرحمن بن عوف زبیر ابن العوام، ابوحُذَيْفَه بن عُشْبه جن کا ذکر ہو رہا ہے یہ بھی اس پہلے گروپ میں تھے۔عثمان بن مظعون، مُصْعَب بن عُمَير، ابو سلمه عبد الاسد اور ان کی زوجہ اُمِ سلمہ۔حضرت میاں بشیر احمد صاحب نے لکھا ہے کہ یہ ایک عجیب بات ہے کہ ان ابتدائی مہاجرین میں سے زیادہ تعداد ان لوگوں کی تھی جو قریش کے طاقتور قبائل سے تعلق رکھتے تھے اور کمزور لوگ کم نظر آتے ہیں جس سے دو باتوں کا پتہ چلتا ہے۔اول یہ کہ طاقتور قبائل سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی قریش کے مظالم سے محفوظ نہیں تھے اور دوسرے یہ کہ کمزور لوگ مثلاً غلام وغیرہ اس وقت ایسی کمزوری اور بے بسی کی حالت میں تھے کہ ہجرت کی طاقت بھی نہیں رکھتے تھے۔جب یہ مہاجرین جنوب کی طرف سفر کرتے ہوئے شُعَيْبہ پہنچے جو اس زمانے میں عرب کا ایک بندر گاہ تھا تو اللہ تعالیٰ کا ایسا فضل ہوا کہ ان کو ایک تجارتی جہاز مل گیا جو حبشہ کی طرف روانہ ہونے کو بالکل تیار تھا۔چنانچہ یہ اس میں سوار ہو گئے۔حبشہ پہنچ کر مسلمانوں کو نہایت امن کی زندگی نصیب ہوئی اور خدا خدا کر کے قریش کے مظالم سے چھٹکار املا۔لیکن جیسا کہ بعض مورخین نے بیان کیا ہے ابھی ان مہاجرین کو حبشہ میں گئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ ایک اُڑتی ہوئی افواہ ان تک پہنچی کہ تمام قریش مسلمان ہو گئے ہیں اور مکہ میں اب بالکل امن ہو گیا ہے۔اس خبر کا یہ نتیجہ ہوا کہ اکثر مہاجرین بغیر سوچے سمجھے واپس آگئے۔اس افواہ کے بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے کچھ روشنی ڈالی ہے کہ کس طرح پھیلی اور کیوں ؟ اس افواہ کی کیا وجہ تھی ؟ مختلف تاریخوں سے اخذ کر کے وہ لکھتے ہیں کہ گو حقیقتا یہ افواہ بالکل جھوٹی اور بے بنیاد تھی جو مہاجرین حبشہ کو واپس لانے اور ان کو تکلیف میں ڈالنے کی غرض سے قریش نے مشہور کر دی ہو گی۔بلکہ زیادہ غور سے دیکھا جائے تو اس افواہ اور مہاجرین کی واپسی کا قصہ ہی بے بنیاد نظر آتا ہے لیکن (انہوں نے لکھا ہے) اگر اس کو صحیح سمجھا جائے تو ممکن ہے کہ اس کی تہہ میں وہ واقعہ ہو جو بعض احادیث میں بیان ہوا ہے اور جیسا کہ بخاری میں بھی یہ واقعہ آتا ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحن کعبہ میں سورت نجم کی آیات تلاوت فرمائیں۔اس وقت وہاں کفار کے کئی رؤساء جو تھے وہ بھی موجود تھے، بعض مسلمان بھی تھے۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت ختم کی تو سورۂ نجم پڑھنے کے بعد آپ نے سجدہ کیا۔اور آپ کے ساتھ ہی تمام مسلمان اور کافر بھی سجدے میں گر گئے۔کفار کے سجدے کی وجہ حدیث میں بیان نہیں ہوئی لیکن معلوم ہوتا ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت پر اثر آواز میں آیات الہی کی تلاوت فرمائی اور وہ آیا تبھی ایسی تھیں جن میں