خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 55 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 55

خطبات مسرور جلد 17 55 5 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 فروری 2019 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 101 فروری 2019ء بمطابق 101 تبلیغ 1398 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آج جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام ہے حضرت ابو حذیفہ بن عُتبہ۔ان کی کنیت ابو حذیفہ تھی۔ان کا نام هُشَيْم يَا هَاشِمْ یا قَيْس، جنل، عسل اور مقسم بیان کیا جاتا ہے۔آپ کی والدہ اُمّ صفوان تھیں۔ان کا نام فاطمہ بنت صفوان تھا۔آپ بڑے دراز قد اور خوبصورت چہرے کے مالک تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دار ارقم میں داخل ہونے سے قبل اسلام میں شامل ہو چکے تھے۔ابتدائی ایمان لانے والوں میں سے تھے۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 62-61 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء)(مستدرك على الصحيحين جلد 3 صفحه 248 حدیث 4993 كتاب معرفة الصحابة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 2002ء) (امتاع الاسماع جلد 14 صفحه 335 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1999ء) اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے لکھا ہے کہ ابو حذيفه بن عُتبہ تھے جو بنی امیہ میں سے تھے۔اُن کے باپ کا نام عُتبہ بن ربیعہ تھا جو سرداران قریش میں سے تھا۔ابو حُذَيْفَه جنگ یمامہ میں شہید ہوئے جو حضرت ابو بکر کے زمانہ خلافت میں مسیلمہ کذاب کے ساتھ ہوئی تھی۔(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے صفحہ 124) حضرت ابو حذیفہ حبشہ کی طرف دونوں ہجرتوں میں شامل ہوئے تھے اور آپ کی بیوی حضرت سَهْله بنت سهيل نے بھی آپ کے ساتھ ہجرت کی تھی۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 62 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) ہجرت حبشہ کے بارے میں پہلے بھی صحابہ کے ذکر میں ذکر ہو چکا ہے کہ کس طرح ہوئی اور کیوں ہوئی ؟ یہاں بھی مختصر ذکر کر دیتا ہوں۔مختلف تاریخی کتب سے اور حدیثوں سے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے جو اخذ کیا ہے اس کو مزید مختصر کر کے یا اس میں سے چند باتیں لے کے بیان کروں گا۔آپ لکھتے ہیں کہ جب مسلمانوں کی تکلیف انتہا کو پہنچ گئی اور قریش اپنی ایذارسانی میں ترقی کرتے گئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے فرمایا کہ وہ حبشہ کی طرف ہجرت کر جائیں اور فرمایا کہ حبشہ کا بادشاہ عادل اور انصاف پسند ہے اس کی حکومت میں کسی پر ظلم نہیں ہوتا۔اس زمانے میں حبشہ ایک مضبوط عیسائی حکومت تھی اور وہاں کا