خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 54 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 54

خطبات مسرور جلد 17 54 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 جنوری 2019 رہے ہو کہ تم محتاج ہو ؟ اس نے کہا ہاں اللہ کی قسم۔میں نے پھر کہا، تیسری دفعہ کہ اللہ کی قسم ؟ اس نے کہا ہاں اللہ کی قسم۔کہتے ہیں کہ حضرت ابوانیسر اس وقت اپنی تحریر لے کر آئے اور اپنے ہاتھ سے اسے مٹادیا جو لکھی ہوئی تھی۔قرضہ واپس دینے کی تحریر تھی اسے مٹادیا اور کہا کہ اگر تمہیں ادائیگی کی توفیق ملے تو مجھے ادا کر دین اور نہ تم آزاد ہو۔کہتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں میری ان دو آنکھوں کی بصارت یعنی اپنی دونوں انگلیاں اپنی آنکھوں پر رکھیں اور میرے ان دوکانوں کی شنوائی اور میرے دل نے اس بات کو یاد رکھا ہے اور انہوں نے دل کی جگہ کی طرف اشارہ کیا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہاہوں، جب یہ تحریر مٹائی اور آزاد کیا تو کہتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں اپنی آنکھوں سے، اپنے کانوں سے، اپنے دل سے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں اور آپ فرما رہے تھے کہ جس نے کسی تنگدست کو مہلت دی یا اس کا تمام مالی بوجھ اتار دیا اللہ تعالیٰ اسے اپنے سائے میں جگہ دے گا۔(صحیح مسلم کتاب الزهد والرقائق باب حديث جابر الطويل وقصة ابي اليسر حديث 7512) تو میں نے تمہارا بوجھ اتار دیا کیونکہ مجھے اللہ تعالیٰ کے سائے کی تلاش ہے۔یہ ایک اور مثال ہے اللہ تعالیٰ کے خوف اور خشیت کی۔خواہش تھی تو بس یہی کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو نہ کہ دنیاوی منفعت۔حضرت ابُوا لْيَسَر كَعْب بن عَمْر و احادیث کے بیان کرنے میں نہایت احتیاط سے کام لیتے تھے۔ایک مرتبہ عبادة بن ولید سے دو حدیثیں بیان کیں اور حالت یہ تھی کہ آنکھ اور کان پر انگلی رکھ کر کہتے کہ ان آنکھوں نے یہ واقعہ دیکھا اور ان کانوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بیان فرماتے سنا۔(صحيح مسلم كتاب الزهد والرقائق باب حديث جابر الطويل وقصة ابى اليسر حدیث 7513،7512) حضرت ابو الیسر کے ایک بیٹے کا نام عُمیر تھا جو اُمّ عَمْرو کے بطن سے تھے۔حضرت اُمّ عَمْرو حضرت جابر بن عبد اللہ کی پھوپھی تھیں۔آپ کے ایک بیٹے یزید بن ابی یسر تھے جو کہ لبابة بنت حارث کے بطن سے پیدا ہوئے۔ایک بیٹے کا نام حبیب تھا جن کی والدہ ام ولد تھیں۔ایک بیٹی عائشہ تھیں جن کی والدہ کا نام اُٹھ الریاع تھا آپ غزوہ بدر میں بھی شریک ہوئے تھے۔اس وقت آپ کی عمر بیس برس تھی۔آپ کی وفات حضرت امیر معاویہ کے زمانے میں پچپن ہجری میں ہوئی۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 436 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) لوگ تھے ، عجیب شان تھی ان کی جنہوں نے ہمیں اللہ تعالیٰ سے وفا کے طریقے بھی سکھائے۔اللہ تعالیٰ کی خشیت کے طریقے بھی سکھائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کو دل کی گہرائیوں سے قبول کرتے ہوئے کامل اطاعت کرنے کے طریقے بھی سکھائے۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے درجات بلند کرے۔(الفضل انٹر نیشنل مورخہ 15 / فروری 2019ء تا21 فروری 2019ء جلد 26 شمارہ 07 صفحہ 05تا09)