خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 53
خطبات مسرور جلد 17 53 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 جنوری 2019 چنانچہ ایسا ہی ہوا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آزاد کر دیا اور اُن کو ایک غلام مہیا فرما دیا۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب سیرت خاتم النبیین میں ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ عُبَادَة بن ولید روایت کرتے ہیں کہ ہم ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابوانیسر کو ملے۔اس وقت ان کے ساتھ ایک غلام بھی تھا اور ہم نے دیکھا کہ ایک دھاری دار چادر اور ایک یمنی چادر ان کے بدن پر تھی اور اسی طرح ایک دھاری دار چادر اور ایک یمنی چادر ان کے غلام کے بدن پر تھی۔میں نے انہیں کہا کہ چھا تم نے ایسا کیوں نہ کیا کہ اپنے غلام کی دھاری دار چادر خود لے لیتے اور اپنی چادر اسے دے دیتے یا اس کی یمنی چادر خود لے لیتے اور اپنی دھاری دار چادر اسے دے دیتے تاکہ تم دونوں کے بدن پر ایک ایک طرح کا جوڑا ہو جاتا۔حضرت ابوانیسر نے میرے سر پر ، روایت کرنے والے کہتے ہیں کہ میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لئے دعا کی اور پھر مجھے کہنے لگے کہ بھتیجے میری ان آنکھوں نے دیکھا ہے اور میرے ان کانوں نے سنا ہے اور میرے اس دل نے اسے اپنے اندر جگہ دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اپنے غلاموں کو وہی کھانا کھلاؤ جو تم خود کھاتے ہو اور وہی لباس پہناؤ جو تم خود پہنتے ہو۔پس میں اس بات کو بہت زیادہ پسند کرتا ہوں کہ میں دنیا کے اموال میں سے اپنے غلام کو برابر کا حصہ دے دوں بہ نسبت اس کے کہ قیامت کے دن میرے ثواب میں کوئی کمی آوے۔(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے صفحہ 383) تو یہ تھے وہ لوگ جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کو اس باریکی سے دیکھتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے ہر وقت بے چین رہتے تھے بلکہ اس کے بھوکے تھے۔حضرت ابوالیسر روایت کرتے ہیں کہ بنو حرام کے فلاں بن فلاں کے ذمہ میر امال تھا۔میں نے کچھ پیسے اسے دئے تھے۔اس نے مجھے قرض دینا تھا۔اس کے ذمہ قرضہ تھا۔میں اس کے ہاں گیا۔میں نے سلام کیا اور پوچھا کہ وہ کہاں ہے تو انہوں نے کہا کہ وہ یہاں گھر میں ہے ؟ گھر سے جواب ملا کہ نہیں۔کہتے ہیں کہ پھر اس کا بیٹا جو بلوغت کے قریب تھا۔ابھی بالغ نہیں ہوا تھا۔وہ بیٹا میرے پاس آیا۔میں نے اس سے پوچھا کہ تمہارا باپ کہاں ہے ؟ اس نے کہا کہ اس نے آپ کی آواز سنی اور میری ماں کے چھپر کھٹ میں گھس گیا، وہ آپ کی آواز سن کر پلنگ کے پیچھے چھپ گیا۔تو میں نے کہا میرے پاس باہر آؤ۔پھر میں نے آواز دی کیونکہ مجھے پتہ چل گیا ہے کہ تو کہاں ہے، اس گھر والے مقروض کو کہا کہ باہر آجاؤ مجھے پتہ ہے تم کہاں ہو۔ابو انیسر کہتے ہیں کہ چنانچہ وہ باہر آیا۔میں نے کہا کہ تم کیوں مجھے سے چھپے تھے ؟ اس نے کہا کہ اللہ کی قسم ! میں تمہیں بتاتا ہوں اور تم سے جھوٹ نہیں بولوں گا۔اللہ کی قسم ! میں ڈرا کہ تمہیں بتاؤں اور تم سے جھوٹ بولوں اور تم سے وعدہ کروں اور پھر وعدہ خلافی کروں کہ پھر میں آؤں، جھوٹ بول کے کہوں کہ اچھا میں فلاں دن تمہاری یا فلاں وقت تمہاری رقم دے دوں گا لیکن وعدہ پورا نہ کر سکوں اور جھوٹ بولوں۔پھر کہنے لگا کہ آپ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں اور اللہ کی قسم میں محتاج ہوں۔ابوانیسر کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ اللہ کی قسم ؟ یعنی سوال کیا اس سے کہ تم اللہ تعالیٰ کی قسم کھاتے ہو حقیقی طور پر ؟ اس نے کہا ہاں اللہ کی قسم۔میں نے کہا اللہ کی قسم ؟ پھر میں نے اس سے پوچھا کہ تم اللہ کی قسم کھا کر مجھے یہ بات کہہ