خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 677
خطبات مسرور جلد 17 677 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 دسمبر 2019 تمہارے گھروں سے نکل جائیں گے۔مال سارا ان کو مل جائے گا لیکن وہ تمہارے گھروں سے پھر نکل جائیں گے۔کوئی حق نہیں رہے گا جو پہلے ایک قائم کیا گیا تھا۔اس پر حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت سعد بن معاذ دونوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ یہ اموال مہاجرین میں تقسیم فرما دیں اور وہ ہمارے گھروں میں اسی طرح ہوں گے جیسا کہ پہلے تھے۔ہمیں کوئی ضرورت نہیں۔آپ یہ تمام مال انہی میں تقسیم کر دیں۔انصار کو دینے کی ضرورت نہیں ہے لیکن ان کا جو حق ہے اور مہاجرین اور انصار کی جو مؤاخات قائم ہوئی ہوئی ہے، جو حق ہے ہمارے گھروں میں آنے جانے کا، رہنے کا وہ بھی اسی طرح قائم رہے گا اور انصار نے بآواز بلند عرض کی کہ یار سول اللہ ! ہم راضی ہیں اور ہماراسر تسلیم خم ہے۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ ! انصار اور انصار کے بیٹوں پر رحم فرما۔اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو مال کے عطا فرمایا وہ آپ نے مہاجرین میں تقسیم فرمایا اور انصار میں سے دو صحابہ کے علاوہ کسی کو کچھ نہ دیا وہ دونوں صحابہ جو انصار کے تھے ضرورت مند تھے وہ دونوں حضرت سہل بن حنیف اور حضرت ابودجانہ تھے اور آپ نے حضرت سعد بن معاذ کو ابن ابی حقیق کی تلوار عطا فرمائی۔الله سة (سبل الهدى والرشاد جلد 4 صفحه 325 ذكر خروج بني النضير من أرضهم مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت 1993ء) (اٹلس سیرت نبوی صلی علی تیم صفحہ 264-265 دار السلام 1424ھ) (عمدة القاري شرح صحيح البخاري جلد 12 صفحه 204 كتاب الوكالة مطبوعة دار احياء التراث بيروت (2003ء) حضرت سعد کی والدہ حضرت عمرہ بنت مسعود جو صحابیات میں سے تھیں ان کی وفات اس وقت ہوئی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ دومۃ الجندل کے لیے تشریف لے گئے تھے۔یہ غزوہ ربیع الاول 15 ہجری میں ہو ا تھا۔حضرت سعد اس غزوہ میں آپ کے ہم رکاب تھے۔سعید بن مسیب سے مروی ہے کہ حضرت سعد بن عبادہؓ کی والدہ کی وفات اس وقت ہوئی جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے باہر تھے۔سعد نے عرض کیا کہ میری والدہ کی وفات ہو گئی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آپ ان کی نماز جنازہ پڑھائیں۔آپ نے نماز جنازہ پڑھائی حالانکہ انہیں فوت ہوئے ایک مہینہ ہو چکا تھا۔ایک مہینے کے بعد انہیں خبر پہنچی تھی۔حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ سعد بن عبادہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نذر کے بارے میں پوچھا جو ان کی والدہ پر تھی اور وہ اس کو پورا کرنے سے پہلے ہی وفات پاگئی تھیں۔تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ان کی طرف سے اسے پورا کرو۔حضرت سعید بن مسیب سے مروی ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ میری والدہ کی وفات ہو گئی ہے۔انہوں نے وصیت نہیں کی تھی۔اگر میں ان کی طرف سے صدقہ دوں تو کیا وہ انہیں مفید ہو گا؟ آپ نے فرمایا ہاں۔انہوں نے عرض کیا کہ کون سا صدقہ آپ کو زیادہ پسند ہے ؟ آپ نے فرمایا پانی پلاؤ۔(الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 461-462 سعد بن عباده مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) لگتا ہے اس وقت پانی کی کمی تھی۔کافی ضرورت تھی۔بہر حال ایک روایت میں ہے کہ اس پر حضرت سعد نے