خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 678
خطبات مسرور جلد 17 678 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 دسمبر 2019 ایک کنواں کھدوایا اور کہا کہ یہ ام سعد کی خاطر ہے۔ان کے نام پر وہ جاری کر دیا۔علامہ ابوطیب شمس الحق عظیم آبادی ہیں انہوں نے ابو داؤد کی شرح میں لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا کہ سب سے افضل صدقہ پانی ہے یعنی حضرت سعد کو کہا کہ پانی پلاؤ۔اس کی وجہ یہ تھی کہ ان ایام میں پانی کم یاب تھا یا اس لیے کہ پانی کی ضرورت عام طور پر تمام اشیاء کی نسبت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔پھر لکھتے ہیں کہ پانی کا صدقہ آپ نے اس لیے بھی افضل قرار دیا کیونکہ یہ دینی اور دنیاوی معاملات میں بالخصوص ان گرم ممالک میں سب سے زیادہ نفع رساں چیز ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس احسان کا ذکر فرمایا ہے کہ وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُورًا کہ اور ہم نے آسمان سے پاکیزہ پانی اتارا۔وہاں مدینے میں پانی افضل ترین تھا۔گرمی کی شدت کی وجہ سے عمومی ضرورت اور پانی کی کم یابی کی وجہ سے اس کو بہت قیمتی سمجھا جاتا تھا۔(عون المعبود شرح سنن ابی داؤد جلد 3 صفحه 65-66 كتاب الزكاة باب في فضل سقى الماء مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2002ء) اور پانی کو تو آج بھی قیمتی سمجھا جاتا ہے۔اس کے لیے حکومتیں بھی کہتی رہتی ہیں۔خیال بھی رکھنا چاہیے۔بہر حال انہوں نے صرف اسی پر بس نہیں کیا کہ پانی کا کنواں کھود دیا۔حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن عبادہ جو بنو ساعد ہ میں سے تھے ان کی والدہ فوت ہو گئیں اور اس وقت وہ موجود نہ تھے۔وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے انہوں نے کہا یار سول اللہ ! میری والدہ فوت ہو گئی ہیں اور میں اس وقت ان کے پاس موجود نہ تھا۔یہ آنے کے بعد پتا لگا ہو گا۔پہلے شاید میں نے سفر میں کہہ دیا تھا۔بہر حال سفر میں پتا لگا یا آنے کے بعد پتا لگا لیکن بہر حال وہ موجود نہیں تھے۔وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور اس وقت یہ عرض کیا کہ میں موجود نہیں تھا تو کیا میرا ان کی طرف سے کچھ صدقہ کرنا ان کو نفع دے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں۔تو انہوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! پھر میں آپ کو گواہ ٹھہراتا ہوں کہ میر اباغ مخرّاف ہے وہ ان کی طرف سے صدقہ ہے۔(صحيح البخارى كتاب الوصايا، باب الاشهاد فى الوقف والصدقة حديث 2762) صدقہ اور خیرات اور غریبوں کی مدد میں بڑا کھلا دل رکھتے تھے اور بڑا کھلا ہاتھ رکھتے تھے۔ابھی ان کا ذکر چل رہا ہے۔ان شاء اللہ آئندہ بیان ہو گا۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 17 / جنوری 2020، جلد 27 شماره 105 صفحہ 05 تا 09)