خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 676 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 676

خطبات مسرور جلد 17 676 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 دسمبر 2019 زخمی تھے۔اس حالت میں جب اترے تو آپ نے ان دونوں کا سہارالیا۔حضرت جابر بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ حمراء الاسد میں ہمارا عام زادِ راہ کھجوریں تھیں۔غزوہ حمراء الاسد شوال 13 ہجری میں ہوا۔غزوۂ احد سے واپسی پر قریش کے لوگ روحاء مقام پر ٹھہرے جو مدینہ سے 36 میل کے فاصلے پر واقع ہے۔اس جگہ قریش کو خیال آیا کہ مسلمانوں کو نقصان بہت پہنچا ہے۔واپس جا کر مدینے پر اچانک حملہ کر دینا چاہیے اور مسلمان مقابلہ نہیں کر سکیں گے کیونکہ کافی ان کو نقصان پہنچ چکا ہے۔ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے تعاقب میں نکلے اور حمراء الاسد مقام تک پہنچے۔آپ کو بھی پتا لگا کہ یہ ارادہ ہے تو آپ نے کہا چلو ہم ان کے تعاقب میں چلتے ہیں۔حمراء الاسد مدینہ سے ذوالحلیفہ کی جانب آٹھ میل کے فاصلے پر ہے۔قریشی لشکر کو جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ خبر ملی تو وہ مکے کی طرف بھاگ کھڑا ہو ا۔جب انہوں نے دیکھا کہ مسلمان بجائے اس کے کہ کمزور ہوں یہ تو ہم پر حملہ کرنے آرہے ہیں تو وہ دوڑ گئے۔حضرت سعد بن عبادہ تھیں اونٹ اور کھجور میں لائے جو حمراء الاسد مقام تک ہمارے لیے وافر رہیں۔راوی نے لکھا ہے وہ اونٹ بھی لے کر آئے تھے جو کسی دن دو یا کسی دن تین کر کے ذبح کیے جاتے تھے۔(سبل الهدى والرشاد جلد 4 صفحه 310 الباب الرابع عشر في غزوة حمراء الأسد مطبوعه دار الكتب العلمية بیروت 1993ء) (فرهنگ سیرت صفحه 106 مطبوعه زوار اکیڈمی کراچی (2003ء) (ماخوذ از سیرت خاتم النبیین از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے صفحہ 354) (شرح الزرقانی جلد 2 صفحه 464 باب غزوه حمراء الاسد مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 1996ء) اور ان کو کھایا جاتا تھا۔غزوہ بنو نضیر ، یہ غزوہ ربیع الاول 14 ہجری میں ہوا تھا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کے قبیلہ بنو نضیر کے قلعوں کا 15 روز تک محاصرہ کیا تھا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو خیبر کی طرف جلاوطن کر دیا تھا۔اس موقع پر اموال غنیمت حاصل ہوا تو آپ نے حضرت ثابت بن قیس کو بلا کر فرمایا۔میرے پاس اپنی قوم کو بلاؤ۔حضرت ثابت بن قیس نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکیا خزرج کو ؟ آپ نے فرمایا نہیں تمام انصار کو بلاؤ۔چنانچہ انہوں نے اوس اور خزرج کو آپ کے لیے بلایا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی جس کا وہ اہل ہے۔پھر آپ نے انصار کے ان احسانات کا ذکر کیا جو انہوں نے مہاجرین پر کیے ہیں۔تم نے مہاجرین پر کس طرح احسان کیے ہیں کہ انہیں اپنے گھروں میں ٹھہرایا اور مہاجرین کو اپنے نفوس پر ترجیح دی۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم پسند کرو تو میں بنو نضیر سے حاصل ہونے والے مال سے، وہ اموال غنیمت جو کفار سے جنگ کے بغیر مسلمانوں کو حاصل ہو، یہ وہ مال تھا، اس میں سے تم میں اور مہاجرین میں برابر تقسیم کر دوں۔اس حالت میں مہاجرین حسب سابق تمہارے گھروں اور اموال میں رہیں گے اور اگر تم پسند کرو تو یہ اموال میں مہاجرین میں تقسیم کر دوں، یعنی آدھا آدھا تقسیم کروں تو ٹھیک ہے جس طرح تم پہلے ان سے سلوک کر رہے ہو مہاجرین سے کرتے رہو، تمہارے گھروں میں بھی رہتے رہیں گے۔مؤاخات قائم رہے گی جس طرح یہ سلسلہ چل رہا ہے۔لیکن اگر تم پسند کرو تو یہ اموال میں مہاجرین میں تقسیم کر دوں جس کے نتیجہ میں وہ