خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 675 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 675

خطبات مسرور جلد 17 675 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 دسمبر 2019 عتبہ اور شیبہ اور امیہ بن خلف لوگوں میں موجود ہیں۔یہ جو گروہ آیا ہوا ہے یا ایک لشکر بدر کے قریب ٹھہر اہوا ہے اس میں یہ یہ لوگ موجود ہیں لیکن ابوسفیان نہیں ہے۔جب اس نے ایسا کہا تو انہوں نے پھر اسے مارا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کھڑے نماز پڑھ رہے تھے جب آپ نے یہ صورت دیکھی تو سلام پھیرا اور فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! جب وہ تم سے سچ بولتا ہے تو تم اسے مارتے ہو اور جب وہ تم سے جھوٹ بولتا ہے تو تم اسے چھوڑ دیتے ہو۔راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ لڑکا جو کہہ رہا ہے ٹھیک کہہ رہا ہے۔پھر فرمایا کہ یہ فلاں کے گرنے کی جگہ ہے۔یعنی جو دشمنوں کے نام لیے تھے۔اور بتایا کہ یہ بدر کا میدان ہے یہاں فلاں گرے گا۔راوی کہتے ہیں آپ اپنا ہاتھ زمین پر رکھتے تھے کہ یہاں یہاں۔راوی کہتے ہیں ان میں سے کوئی اپنی جگہ سے اِدھر اُدھر نہیں ہٹا یعنی جو دشمن تھے وہیں گرے اور مرے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے نشان دہی کی تھی۔(صحیح مسلم كتاب الجهاد والسير باب غزوہ بدر حدیث (1779) (فرہنگ سیرت صفحہ 57 مطبوعہ زوار اکیڈمی کراچی 2003ء) غزوۂ احد سے قبل ایک جمعہ کی شام حضرت سعد بن معاذ، حضرت اُسید بن حضیر اور حضرت سعد بن عبادہ مسجد نبوی میں ہتھیار پہنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر صبح تک پہرہ دیتے رہے۔غزوہ احد کے لیے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینے سے نکلنے لگے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور کمان کندھے پر ڈال لی اور نیزہ اپنے ہاتھ میں لے لیا تو دونوں سعد یعنی حضرت سعد بن معاذ اور حضرت سعد بن عبادہ آپ کے آگے آگے دوڑنے لگے۔یہ دونوں صحابہ زرہ پہنے ہوئے تھے اور باقی لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں اور بائیں تھے۔(الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 2 صفحه 28 تا 30 ، غزوة رسول الله احدًا مطبوعه دارالکتب العلميه بيروت 1990ء) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے غزوہ احد کے حالات بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ " آپ صحابہ کی ایک بڑی جماعت کے ہمراہ نماز عصر کے بعد مدینہ سے نکلے۔قبیلہ اوس اور خزرج کے رؤساء سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ آپ کی سواری کے سامنے آہستہ آہستہ دوڑتے جاتے تھے اور باقی صحابہ آپ کے دائیں اور بائیں اور پیچھے چل رہے تھے۔" (سیرت خاتم النبین علی ای ام از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ 486) غزوۂ احد کے موقعے پر جو صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ثابت قدمی سے کھڑے رہے ان میں حضرت سعد بن عبادہ بھی تھے۔(سبل الهدى والرشاد جلد 4 صفحه 197 ذكر ثبات رسول الله مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت 1993ء) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد سے مدینہ واپس تشریف لائے اور اپنے گھوڑے سے اترے تو آپ حضرت سعد بن معاذ اور حضرت سعد بن عبادہ کا سہارا لیتے ہوئے اپنے گھر میں داخل ہوئے۔(سبل الهدى والرشاد جلد 4 صفحه 229 باب غزوة أحد ذكر رحيل رسول الله الله الله الى المدينة، دار الكتب العلمية بيروت 1993ء)