خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 674
خطبات مسرور جلد 17 674 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 دسمبر 2019 وَذَ كَثِيرُ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ لَوْ يَرُدُّونَكُمْ مِنْ بَعْدِ اِيْمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللهُ بِأَمْرِهِ إِنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ۔(البقرة: 110) اہل کتاب میں سے بہت سے لوگ بعد اس کے کہ حق ان پر خوب کھل چکا ہے اس حسد کی وجہ سے جو ان کی اپنی ہی جانوں سے پیدا ہوا ہے چاہتے ہیں کہ تمہارے ایمان لے آنے کے بعد تمہیں پھر کافر بنا دیں پس تم اس وقت تک کہ اللہ اپنے حکم کو نازل فرمائے انہیں معاف کرو اور ان سے در گزر کرو اور اللہ یقینا ہر ایک امر پر پورا پورا قادر ہے۔اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عفو کو ہی مناسب سمجھتے تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا تھا۔آخر اللہ نے ان کو اجازت دے دی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے مقام پر ان کا یعنی کافروں کا مقابلہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس لڑائی میں کفار کے، قریش کے بڑے بڑے سرغنے مار ڈالے تو عبد اللہ بن اُبی بن سلول اور جو اس کے ساتھ مشرک اور بت پرست لوگ تھے تب وہ کہنے لگے کہ اب تو یہ سلسلہ شان دار ہو گیا ہے۔کافروں کی یہ شکست دیکھ کر تب ان کو یقین آیا انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر قائم رہنے کی بیعت کر لی اور مسلمان ہو گئے۔(صحيح البخارى كتاب التفسیر تفسیر آل عمران حدیث 4566) 6 غزوہ بدر کے موقعے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب صحابہ سے مشاورت کی تو حضرت سعد بن عبادہ نے اس موقع پر جو کہا اس کے بارے میں ایک روایت میں تذکرہ ملتا ہے۔حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب ابوسفیان کے آنے کی خبر ملی تو آپ نے مشورہ کیا۔راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکر نے گفتگو کی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اعراض فرمایا۔پھر حضرت عمرؓ نے گفتگو کی، مشورے دینے چاہے۔آپ نے ان سے بھی اعراض فرمایا۔پھر حضرت سعد بن عبادہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے یار سول اللہ ! آپ ہم سے مشورہ طلب کرتے ہیں۔اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر آپ ہمیں سمندر میں گھوڑے ڈالنے کا حکم دیں تو ہم انہیں ڈال دیں گے۔اگر آپ ہمیں بَزكُ الْغِمَادُ، یمن کا ایک شہر ہے جو مکے سے پانچ رات کی مسافت پر سمندر کے کنارے واقع ہے، اس تک ان کے جگر مارنے کا حکم دیں تو ہم ایسا ضرور کریں گے۔راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بلایا۔وہ چلے یہاں تک کہ بدر میں اترے۔یہ بات سن کے پھر آپ اپنے ساتھیوں کو ہمراہ لے کر چلے اور بدر کے مقام تک پہنچے۔وہاں قریش کے پانی لانے والے آئے اور ان میں بنو حجاج کا ایک سیاہ لڑکا بھی تھا۔انہوں نے اسے پکڑ لیا یعنی مسلمانوں نے اسے پکڑ لیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اس سے ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں پوچھتے رہے۔کیونکہ پہلے یہی پتا لگا تھا کہ ابوسفیان اپنے ایک بڑے لشکر کے ساتھ یا شاید گروہ کے ساتھ آ رہا ہے۔بہر حال ان سے ابو سفیان کے بارے میں پوچھتے رہے۔وہ یہ کہتا رہا کہ مجھے ابوسفیان کے بارے میں کچھ علم نہیں لیکن یہ ابو جہل اور غلبہ اور شیبہ اور اُمیہ بن خلف ہیں۔یہ ضرور یہاں بیٹھے ہوئے ہیں، ابو جہل بھی ہے، عتبہ بھی ہے، شیبہ بھی ہے، امیہ بن خلف بھی ہے۔جب اس نے یہ کہا تو انہوں نے اسے مارا۔اس نے کہا اچھا میں تمہیں بتاتا ہوں۔یہ ہے ابوسفیان یعنی کہ ابوسفیان بھی ان میں شامل ہے۔جب انہوں نے اسے چھوڑ دیا اور اس سے پھر پوچھا تو اس نے کہا کہ مجھے ابو سفیان کا کوئی علم نہیں لیکن یہ ابو جہل اور