خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 673 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 673

خطبات مسرور جلد 17 673 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27دسمبر 2019 اس مجلس پر پڑی۔وہ لوگ کنارے سڑک کے بیٹھے ہوں گے تو عبد اللہ بن ابی بن سلول نے اپنی چادر سے اپنی ناک کو ڈھانکا اور کہنے لگا کہ ہم پر گر دنہ اڑاؤ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو السلام علیکم کہا اور ٹھہر گئے۔جب اس نے یہ بات کی ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری کو کھڑا کر لیا۔ٹھہر گئے اور السلام علیکم کہا اور گدھے سے اترے۔آپ نے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلایا اور انہیں قرآن پڑھ کر سنایا۔عبد اللہ بن اُبی بن سلول نے کہا اے مرد ! جو بات تم کہتے ہو اس سے اچھی کوئی بات نہیں۔اگر یہ سچ ہے تو ہماری مجلس میں آکر اس سے تکلیف نہ دیا کرو۔ہماری مجلس میں آنے کی، یہ باتیں کہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔مختصر پہلے بھی ایک دفعہ میں یہ بیان کر چکا ہوں۔اپنے ٹھکانے پر ہی واپس جاؤ۔پھر جو تمہارے پاس آئے اسے بیان کرو۔حضرت عبد اللہ بن رواحہ بھی وہاں بیٹھے ہوئے تھے ، مسلمان ہو چکے تھے ، صحابی تھے انہوں نے یہ سن کر کہا کہ نہیں یارسول اللہ ! آپ ہماری ان مجلسوں میں ہی آکر ہمیں پڑھ کر سنایا کریں۔ہمیں تو یہ بات پسند ہے۔اس پر مسلمان، مشرک اور یہودی ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے لگے۔قریب تھا کہ ایک دوسرے پر حملہ کرتے مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا جوش دبایا۔آخر وہ رک گئے۔اس کے بعد پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جانور پر سوار ہو کر چلے گئے یہاں تک کہ حضرت سعد بن عبادہ کے پاس آئے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا سعد ! کیا تم نے سنا جو ابو حباب نے کہا۔آپ کی مراد عبد اللہ بن اُبی بن سلول سے تھی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس نے مجھے یوں یوں کہا ہے۔حضرت سعد بن عبادہ نے کہا یار سول اللہ ! آپ اس کو معاف کر دیں اور اس سے در گزر کیجیے۔اس ذات کی قسم ہے جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی ہے۔اللہ وہ حق اب یہاں لے آیا ہے جس کو اس نے آپ پر نازل کیا ہے۔اس بستی والوں نے تو یہ فیصلہ کیا تھا کہ اس کو یعنی عبد اللہ بن ابی بن سلول کو سرداری کا تاج پہنا کر عمامہ اس کے سر پر باندھیں۔جب اللہ تعالیٰ نے اس حق کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے یہ منظور نہ کیا تو وہ حسد کی آگ میں جل گیا۔اس لیے اس نے وہ کچھ کیا جو آپ نے دیکھا یعنی وہ سردار بننے والا تھا اور آپ کے آنے سے اس کی سرداری جاتی رہی۔اس وجہ سے اس کو حسد ہے۔آپ سے جلن ہے اور اس نے یہ سب کچھ کہا ہے۔یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے در گزر کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ مشرکوں اور اہل کتاب سے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا در گزر کیا کرتے تھے اور ان کی ایذا دہی پر صبر کیا کرتے تھے۔اللہ عز و جل نے فرمایا ہے لَتُبْلُونَ فِي أَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ وَلَتَسْمَعُنَ مِنَ الَّذِينَ أوتُوا الْكِتَبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ (آل عمران:187) اشْرَكُوا أَذَى كَثِيرًا وَإِن تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ - کہ تم ضرور اپنے اموال اور اپنی جانوں کے معاملے میں آزمائے جاؤ گے اور تم ضرور ان لوگوں سے جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور ان سے جنہوں نے شرک کیا بہت تکلیف دہ باتیں سنو گے اور اگر تم صبر کرو اور تقوی اختیار کرو تو یقینا یہ ایک بڑا ہمت والا کام ہے۔اور پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ