خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 52 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 52

خطبات مسرور جلد 17 52 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 جنوری 2019 حضرت عباس کو گر فتار کیا تھا۔آپ ہی وہ صحابی ہیں جنہوں نے غزوہ بدر میں مشرکین کا جھنڈ ا ابو عَزِیز بن عُمیر کے ہاتھ سے چھین لیا تھا۔آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دیگر غزوات میں بھی شامل رہے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جنگ صفین میں بھی حضرت علی کے ساتھ شامل ہوئے۔(اسد الغابه جلد 6 صفحه 326-327 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) ایک روایت میں یہ ہے کہ حضرت عباس کو غزوہ بدر میں قیدی بنانے والے حضرت عبید بن آؤس تھے۔(اسد الغابه جلد 3 صفحه 528-529 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) بہر حال حضرت ابن عباس سے مروی ہے، حضرت ابن عباس یہ کہتے ہیں کہ غزوہ بدر کے روز جس شخص نے حضرت عباس کو گر فتار کیا تھا اس کا نام آبو انیسر تھا۔ابو الیسر اس وقت دبلے پتلے آدمی تھے۔غزوہ بدر کے وقت آپ ہیں برس کے جواں سال تھے جبکہ حضرت عباس بھاری بھر کم جسم کے مالک تھے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو انیسر سے دریافت کیا کہ تم نے عباس کو کس طرح اسیر کر لیا، کس طرح قیدی بنالیا؟ تم تو بالکل دبلے پتلے اور وہ بڑے لمبے چوڑے قد کے ہیں اور جسیم ہیں جس پر انہوں نے بتایا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص نے میری مدد کی تھی جس کو میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی کبھی بعد میں دیکھا ہے اور اس کا حلیہ ایسا ایسا تھا۔اس کا حلیہ بیان کیا جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لَقَدْ آعَانَكَ عَلَيْهِ مَلَكَ كَرِيمٌ یقیناً اس میں تیری ایک معزز فرشتے نے مدد کی ہے۔الطبقات الكبرى جلد 4 صفحه 8 مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ بدر کے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے دشمن کو قتل کیا اس کے لئے فلاں فلاں کچھ ہو گا۔پس مسلمانوں نے ستر مشرکین کو قتل کیا اور ستر مشرکین کو قید بھی کیا۔حضرت آبوانیسر دواسیروں کو لائے اور عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے ہم سے وعدہ کیا تھا کہ جو کوئی قتل کرے گا اس کے لئے فلاں فلاں کچھ ہو گا اور اسی طرح جو کوئی اسیر بنائے گا اس کے لئے فلاں فلاں ہو گا۔میں دو قیدی لے کر آیا ہوں۔(المصنف لعبد الرزاق جلد 5 صفحہ 239 كتاب الجهاد باب ذكر الخمس الخ حديث 9483المكتب الاسلامي1983ء) ایک روایت کے مطابق غزوہ بدر میں ابو البختری کو قتل کرنے والے حضرت ابوانیسر تھے۔(اسد الغابه جلد 6 صفحه 92 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) حضرت سلامة بنت معقل بیان کرتی ہیں کہ میں حُباب بن عمرو کی غلامی میں تھی اور ان سے میرے ہاں ایک لڑکا بھی پیدا ہوا تھا۔ان کی وفات پر ان کی بیوی نے مجھے بتایا کہ اب تمہیں حباب کے قرضوں کے بدلے بیچ دیا جائے گا۔تمہاری حیثیت لونڈی کی تھی اس لئے تم بیچ دی جاؤ گی۔کہتی ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور ساری صور تحال بتائی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا کہ حُباب بن عَمْرو کے ترکے کا ذمہ دار کون ہے؟ تو بتایا گیا کہ ان کے بھائی ابوانیسران کے ذمہ دار ہیں۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور فرمایا کہ اسے مت بیچنا۔یہ لونڈی ہے۔اسے مت بیچنا بلکہ اسے آزاد کر دو۔اور جب تمہیں پتہ لگے کہ میرے پاس کوئی غلام آیا ہے تو تم میرے پاس آجانا۔میں اس کے عوض میں تمہیں دوسر اغلام دے دوں گا۔(مسند احمد بن حنبل جلد 8 صفحہ 726 حدیث 27569 مسند سلامه بنت معقل مطبوعه عالم الكتب بيروت 1998ء)