خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 672 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 672

خطبات مسرور جلد 17 المستدرک کی روایت ہے۔672 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 دسمبر 2019 (المستدرك على الصحيحين جلد 3 صفحه 282 کتاب معرفة الصحابه باب ذكر مناقب سعد بن عباده حديث 5096 ، دار الكتب العلميه بيروت 2002ء) غزوہ بد ر پر روانگی کے وقت حضرت سعد بن عبادہ نے عضب نامی تلوار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تحفہ پیش کی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر میں اسی تلوار کے ساتھ شرکت کی تھی۔(سبل الهدى والرشاد جلد 4 صفحه 24 باب غزوة بدر الكبرى مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1993ء) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک گدھا بھی حضرت سعد بن عبادۃ نے تحفہ پیش کیا تھا۔(سبل الهدى والرشاد جلد 7 صفحه 406 الباب الرابع في بغاله، وحميره الله مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت 1993ء) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سات زرہیں تھیں۔ان میں سے ایک کا نام ذَاتُ الفُضُول تھا۔یہ نام اسے اس کی لمبائی کی وجہ سے دیا گیا تھا اور یہ زرہ جو تھی حضرت سعد بن عبادہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تب بھجوائی تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کی طرف روانہ ہو چکے تھے اور یہ زرہ لوہے کی تھی۔یہ وہی زرہ تھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو شخم یہودی کے پاس جو کے عوض بطور رہن رکھوائی تھی اور جو کاوزن تیں صاع تھا اور ایک سال کی مدت کے لیے بطور قرض لیا گیا تھا۔(سبل الهدى والرشاد جلد 7 صفحه 368 الباب الرابع فى دروعه، ومغفره، وبيضته۔مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت 1993ء) حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا حضرت علی کے پاس ہوتا اور انصار کا جھنڈ ا حضرت سعد بن عبادہ کے پاس ہوتا اور جب جنگ زوروں پر ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے جھنڈے تلے ہوتے۔(مسند احمد بن حنبل جلد 1 صفحه 917 مسند عبد الله بن عباس حدیث 3486 مطبوعه عالم الكتب بيروت 1998ء) یعنی دشمنوں کا جو زیادہ تر زور تھا انصار کی طرف ہوتا تھا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہیں ہوتے تھے۔حضرت اسامہ بن زید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر سوار ہوئے جس پر فدک کی بنی ہوئی کملی ڈالی ہوئی تھی اور آپ نے حضرت اسامہ بن زید کو پیچھے بٹھا لیا۔حضرت سعد بن عبادہ کی عیادت کو جا رہے تھے کیونکہ حضرت سعد بن عبادہ ان دنوں میں بیمار تھے ، جو بنو حارث بن خزرج کے محلے میں تھے۔یہ واقعہ غزوہ بدر سے پہلے کا ہے۔حضرت اسامہ کہتے تھے کہ چلتے چلتے آپ ایک ایسی مجلس کے پاس سے گزرے جس میں عبد اللہ بن اُبی بن سلول تھا اور یہ اس وقت کا واقعہ ہے کہ عبد اللہ بن ابی بن سلول جو تھا ابھی مسلمان نہیں ہوا تھا اور یہ وہی واقعہ ہے جس میں عبد اللہ بن ابی بن سلول نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بد تمیزی کارویہ دکھایا تھا۔بہر حال جب آپ سواری کے جانور پر بیٹھے ہوئے جارہے تھے تو اس کی گرد، مٹی اڑی اور