خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 671 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 671

خطبات مسرور جلد 17 671 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 دسمبر 2019 کے لوگ آباد تھے۔یہ قبیلہ بنو کنانہ کی ایک شاخ تھا اور اس طرح گویا یہ لوگ قریش کے چا زاد بھائی تھے۔یہاں پہنچ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ بنو ضمرة کے رئیس کے ساتھ بات چیت کی اور باہم رضامندی سے آپس میں ایک معاہدہ ہو گیا جس کی شرطیں یہ تھیں کہ بنو عمرہ مسلمانوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھیں گے اور مسلمانوں کے خلاف کسی دشمن کی مدد نہیں کریں گے اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کو " یعنی بنو ضَمرہ کو " مسلمانوں کی مدد کے لیے بلائیں گے تو وہ فوراً آجائیں گے۔دوسری طرف آپ نے مسلمانوں کی طرف سے یہ عہد کیا کہ " تمام "مسلمان قبیلہ بنو عمرہ کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھیں گے اور بوقت ضرورت ان کی مدد کریں گے۔یہ معاہدہ با قاعدہ لکھا گیا اور فریقین کے اس پر دستخط ہوئے اور پندرہ دن کی غیر حاضری کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے آئے۔غزوہ ودان کا دوسر انام غزوہ ابواء بھی ہے کیونکہ وڈان کے قریب ہی ابواء کی بستی بھی ہے اور یہ وہی مقام ہے جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ کا انتقال ہوا تھا۔مؤرخین لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس غزوہ میں بنو عمرہ کے ساتھ قریش مکہ کا بھی خیال تھا۔اس کا مطلب یہی ہے کہ دراصل آپ کی یہ مہم قریش کی خطرناک کارروائیوں کے سد باب کے لیے تھی اور اس میں اس زہر یلے اور خطرناک اثر کا ازالہ مقصود تھا جو قریش کے قافلے وغیرہ مسلمانوں کے خلاف قبائل عرب میں پیدا کر رہے تھے۔" قریش مسلمانوں کے خلاف قبیلوں میں جاکے پراپیگنڈہ کرتے تھے۔" اور جس کی وجہ سے مسلمانوں کی حالت ان ایام میں بہت نازک ہو رہی تھی۔" (سیرت خاتم النبیین از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے صفحہ 327-328) حضرت سعد بن عبادہ کے غزوہ بدر میں شامل ہونے کے بارے میں دو آرا بیان کی جاتی ہیں۔واقدی، مداینی اور ابنِ کلہی کے نزدیک یہ غزوہ بدر میں شامل ہوئے تھے۔جبکہ ابن اسحاق اور ابن عقبہ اور ابن سعد کے نزدیک یہ غزوہ بدر میں شامل نہیں ہوئے تھے۔بہر حال اس کی ایک وضاحت طبقات الکبری کی ایک روایت کے مطابق اس طرح ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ غزوہ بدر میں حاضر نہیں ہوئے تھے۔وہ روانگی کی تیاری کر رہے تھے اور انصار کے گھروں میں جاکر انہیں روانگی پر تیار کر رہے تھے کہ روانگی سے پہلے انہیں کتے نے کاٹ لیا۔اس لیے وہ غزوہ بدر میں شامل نہ ہو سکے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگرچہ سعد شریک نہ ہوئے لیکن اس کے آرزو مند تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد کو غزوہ بدر کے مالِ غنیمت میں سے حصہ عنایت فرمایا تھا۔حضرت سعد بن عبادہ غزوہ احد ، خندق سمیت تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل ہوئے۔ย الاستيعاب جلد 2 صفحه 594 سعد بن عباده مطبوعه دار الجيل بيروت (1992ء) (الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 461 سعد بن عباده مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) (سیر الصحابہ جلد 3 صفحہ 377 سعد بن عبادہ مطبوعہ دار الاشاعت کراچی 2004ء) ایک روایت یہ بھی ہے کہ انصار کا جھنڈا غزوہ بدر کے روز حضرت سعد بن عبادہ کے پاس تھا۔یہ