خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 670
670 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 دسمبر 2019 خطبات مسرور جلد 17 کھانا کھلانے کے لیے لے جاتا تاہم حضرت سعد بن عبادہ آشتی اہل صفہ کو کھانا کھلانے کے لیے اپنے ساتھ لے جاتے۔(الاصابه في تمييز الصحابه جلد 3 صفحه 56 سعد بن عباده، دار لكتب العلميه بيروت 1995ء) یعنی اکثر یہ ہو تا تھا لیکن ایسی روایات بھی ہیں کہ اہل صفہ پر ایسے دن بھی آئے جب ان کو بھوکا بھی رہنا پڑا۔بہر حال صحابہ عموماً ان غرباء کا خیال رکھا کرتے تھے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے در پر بیٹھے ہوتے تھے اور ان کا سب سے زیادہ خیال رکھنے والے حضرت سعد بن عبادہ تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ تشریف لانے کے ایک سال بعد ماہ صفر میں ابواء، جو مدینہ سے مکے کی شاہراہ پر جُحفہ سے 23 میل دور واقع ہے۔یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ حضرت آمنہ کی قبر بھی ہے، اس کی طرف کوچ فرمایا۔آپ کا جھنڈا سفید رنگ کا تھا۔اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینے میں حضرت سعد بن عبادہ کو اپنا جانشین یا امیر مقرر فرمایا۔الطبقات الكبرى جلد 2 صفحه 5 باب غزوة الابواء، دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) (اٹلس سیرت نبوی صلی اللہ علم صفحہ 84 مطبوعہ دار السلام 1424ھ) غزوہ ابواء کا دوسرا نام غزوه و گان بیان کیا جاتا ہے۔سیرت خاتم النبیین میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے غزوہ وڈان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے۔یہ لکھتے ہیں کہ " آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق تھا کہ کبھی تو خود صحابہ کو ساتھ لے کر نکلتے تھے اور کبھی کسی صحابی کی امارت میں کوئی دستہ روانہ فرماتے تھے۔مؤرخین نے ہر دو قسم کی مہموں کو الگ الگ نام دیے ہیں؛ چنانچہ جس مہم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود بنفس نفیس شامل ہوئے ہوں اس کا نام مؤرخین غزوہ رکھتے ہیں اور جس میں آپ خود شامل نہ ہوئے ہوں اس کا نام سریہ یا بغث رکھا جاتا ہے مگر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ غزوہ اور سریہ دونوں میں مخصوص طور پر جہاد بالسیف کی غرض سے نکلنا ضروری نہیں۔"ضروری نہیں ہے کہ تلوار کے جہاد کے لیے نکلا جائے۔بلکہ ہر وہ سفر جس میں آپ جنگ کی حالت میں شریک ہوئے ہوں غزوہ کہلاتا ہے خواہ وہ خصوصیت کے ساتھ لڑنے کی غرض سے نہ کیا گیا ہو اور اسی طرح ہر وہ سفر جو آپ کے حکم سے کسی جماعت نے کیا ہو مؤرخین کی اصطلاح میں سریہ یا بغث کہلاتا ہے خواہ اس کی غرض و غایت لڑائی نہ ہو، لیکن بعض لوگ ناواقفیت سے ہر غزوہ اور سریہ کو لڑائی کی مہم سمجھنے لگ جاتے ہیں جو درست نہیں" ہے۔" یہ بیان کیا جا چکا ہے کہ جہاد بالسیف کی اجازت ہجرت کے دوسرے سال ماہ صفر میں نازل ہوئی۔" تھی۔یہ گذشتہ خطبوں میں پہلے بھی بیان ہو چکا ہے۔"چونکہ قریش کے خونی ارادوں اور ان کی خطرناک کارروائیوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کو محفوظ رکھنے کے لیے فوری کارروائی کی ضرورت تھی اس لیے آپ اسی ماہ میں مہاجرین کی ایک جماعت کو ساتھ لے کر اللہ تعالیٰ کا نام لیتے ہوئے مدینہ سے نکل کھڑے ہوئے۔روانگی سے قبل آپ نے اپنے پیچھے مدینہ میں سعد بن عبادہ رئیس خزرج کو امیر مقرر فرمایا اور مدینہ سے جنوب مغرب کی طرف مکہ کے راستہ پر روانہ ہو گئے اور بالآخر مقام وڈان تک پہنچے۔" اس کی یہ تفصیل پہلے بھی بیان ہو چکی ہے۔" اس علاقہ میں قبیلہ بنو ضمرة